بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے امیر کے خواتین پر سنگین الزامات پر تنازع

ڈھاکہ/کاشگل نیوز

بنگلہ دیش میں عوامی مقامات پر کام کرنے والی عورتوں کو جسم فروشوں سے تشبیہہ دینے کے جماعتِ اسلامی کے امیر کے نام سے منسوب متنازع بیان پر ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ جماعت کا دعویٰ ہے امیر کی اکاؤنٹ ہیک کی گئی تھی۔

جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کے نام سے منسوب ایک بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 31 جنوری2026 کو شائع ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

بیان میں کام کرنے والی خواتین کو جسم فروشی کے مترادف قرار دینے کی بات شامل تھی، جس پر خواتین تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے سخت مذمت کی۔

اس بیان کے بعد مختلف حلقوں نے اس پر الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ کیا اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے احتجاج کیا۔

متنازع بیان کے متن میں کہا گیا:

"خواتین کے معاملے میں جماعت کا مؤقف نہ تو مبہم ہے اور نہ ہی معذرت خواہانہ، بلکہ اصولی ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ خواتین کو قیادت میں آنا چاہیے۔ جماعت میں یہ ممکن نہیں۔ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔
ہمارا ماننا ہے کہ جب خواتین کو جدیدیت کے نام پر گھر سے باہر نکالا جاتا ہے تو وہ استحصال، اخلاقی بگاڑ اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ دراصل جسم فروشی کی ایک اور شکل ہے۔”

سوشل میڈیا کی بے حیائی، کام کی جگہ پر ہراسانی اور خواتین کو ایک شے (commodity) بنا دینا ترقی کی علامت نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔

جماعتِ اسلامی نے وضاحت میں کہا کہ ڈاکٹر شفیق ر رحمان کے ایکس اکاؤنٹ کو ہیک کیا گیا تھا اور یہ بیان نہ تو ان کے ذاتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی جماعت کی پالیسی کی نمائندگی کرتا ہے۔

جماعتِ اسلامی کا موقف:
"ہم خواتین کی تعلیم، باعزت روزگار، تحفظ اور معاشی شمولیت کے حامی ہیں۔”

ڈاکٹر شفیق رحمان نے بعد میں ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ جماعت خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس بیان کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے غلط/ہیک شدہ قرار دیا۔

عوامی سطح پر یہ بیان بدستور ان سے منسوب رہا اور تنازع جاری ہے۔

Share this content: