شہ رگ یا اٹوٹ انگ! زخمی ہے ہر انگ(ریاست جموں کشمیر کے تناظر میں)

تحریر: خواجہ کبیر احمد

ریاست جموں کشمیر ایک جسم ہے، ایک ایسا جسم جس کے ہاتھ، پاؤں، دل، دماغ، آنکھیں، شریانیں اور رگیں کبھی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں، مگر 1947 کے بعد کی جنگوں، سیاسی فیصلوں، عسکری مداخلتوں اور مسلسل تقسیم نے اس جسم کو مختلف حصوں میں بانٹ دیا۔ آج اس جسم کا ایک حصہ بھارت کے زیرِ انتظام ہے، ایک حصہ پاکستان کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ ایک حصہ چین کے زیرِ انتظام ہے۔ دو مملکتوں (بھارت اور پاکستان ) کے درمیان جنگوں نے انسانوں، خاندانوں، وادیوں، بازاروں اور رشتوں کو ایک دوسرے سے جدا کر رکھا ہے۔ ایک زمانے میں ایک ہی ریاست کے شہری ہونے کی شناخت رکھنے والے لوگ اب مختلف انتظامی نظاموں، قوانین اور سیاسی بیانیوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے درمیان جغرافیائی فاصلے سے کہیں زیادہ سیاسی، انتظامی اور انسانی رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں۔ اس تقسیم کا المیہ صرف زمین کے ٹکڑے ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک قوم کے تاریخی، تہذیبی، سماجی اور سیاسی تجربے کی تقسیم بھی ہے۔

اس صورتِ حال کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے وجود اور مستقبل کے بارے میں دعوے کرنے والی دو بڑی طاقتیں، بھارت اور پاکستان، اسی ایک جسم کو اپنے اپنے الفاظ اور اپنے سیاسی تصورات کے ذریعے بیان کرتی ہیں۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، یعنی اس کا ایسا حصہ جسے اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب پاکستان طویل عرصے سے جموں کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتا آیا ہے اور اسے ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع سمجھتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی (متعلقہ) قراردادوں کے مطابق اس کے حل کا مطالبہ کرتا ہے۔

یوں ایک طرف اٹوٹ انگ کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف شہ رگ کی اصطلاح، لیکن ان دونوں بیانیوں کے درمیان ایک بنیادی سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اگر ریاست جموں کشمیر ایک جسم ہے تو اس جسم کا حال کیا ہے؟ اس کے مختلف حصوں میں بسنے والے انسان(اس جسم کےاعضا) کس حال میں ہیں؟ ان کے زخموں کا شمار کون کرے گا اور ان زخموں کے علاج کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
جسم کے کسی حصے کو اٹوٹ انگ قرار دے دینا اس کے زخموں کو مندمل نہیں کرتا، اسی طرح کسی خطے کو اپنی شہ رگ کہہ دینا وہاں بسنے والے انسانوں کے بنیادی حقوق، سیاسی اختیار، معاشی آسودگی اور انسانی وقار کی ضمانت نہیں بن جاتا۔ کسی خطے کے بارے میں ریاستی دعوے اپنی جگہ، لیکن ان دعوؤں کے ساتھ یہ سوال بھی لازماً اٹھتا ہے کہ وہاں رہنے والے انسانوں کو کس حد تک آزادیِ اظہار، انصاف تک رسائی، سیاسی شرکت، معاشی مواقع اور اپنے مستقبل کے بارے میں رائے دینے کا اختیار حاصل ہے۔ اگر ریاست جموں کشمیر کو واقعی ایک جسم تصور کیا جائے تو اس کے ہر حصے کے درد کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس جسم کے تمام اعضا کی حالت کا جائزہ لیا جائے، خواہ وہ بھارت کے زیرِ انتظام ہوں، پاکستان کے زیرِ انتظام یا چین کے زیرِ انتظام۔

1947 کے بعد ریاست جموں کشمیر کی تاریخ جنگوں، جنگ بندیوں، سیاسی فیصلوں اور جغرافیائی تقسیم کے ایسے مراحل سے گزری جنہوں نے اس کی وحدت کو شدید متاثر کیا۔ جنگ بندی لائن نے نہ صرف زمین کو تقسیم کیا بلکہ خاندانوں، رشتوں، آبائی علاقوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو بھی متاثر کیا۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے افراد مختلف جانب رہ گئے، جن کے لیے اپنے پیاروں سے ملنا ایک عام انسانی ضرورت کے بجائے انتظامی اجازتوں، سرحدی پابندیوں اور سیاسی حالات سے مشروط ہو گیا۔ ایک ہی ریاست کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگ زبان، ثقافت، تاریخ اور بہت سی سماجی روایات میں مشترکات رکھتے ہیں، لیکن ان کے درمیان سفر، رابطے اور باہمی میل جول کی راہ میں ایسی رکاوٹیں موجود ہیں جنہیں محض جغرافیائی فاصلے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح تقسیم نے ریاست کے نقشے کے ساتھ ساتھ اس کے لوگوں کے اجتماعی شعور اور مشترکہ مستقبل کے تصور کو بھی متاثر کیا ہے۔

بھارت اپنے زیرِ انتظام جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اپنے مؤقف کو اپنی قومی یکجہتی، آئینی انضمام، ترقی اور انتظامی اصلاحات کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی اور سابق ریاست کو دو بھارتی یونین ٹیریٹریز، جموں کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا۔ اس اقدام نے ریاست کی آئینی اور انتظامی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کیں۔ بھارتی حکومت اسے اپنے آئینی اختیار اور انتظامی پالیسی کے تناظر میں دیکھتی ہے، جبکہ اس کے ناقدین اسے جموں کشمیر کی سابق خود اختیاری یا خصوصی حثیت کے خاتمے اور سیاسی اختیار کی مزید مرکزیت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ 2024 میں جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا انعقاد بھی ہوا، لیکن انتخابات کا ہونا اور کسی خطے کے سیاسی مستقبل، آئینی حیثیت اور عوامی خواہشات کے سوالات کا حل ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ اسی لیے یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ بھارت جس خطے کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے، وہاں بسنے والے شہریوں کے سیاسی اور شہری حقوق کی عملی صورتِ حال کیا ہے اور ان کی سیاسی خواہشات کو کس حد تک فیصلہ سازی میں جگہ ملتی ہے؟

بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، صحافت، سیاسی سرگرمیوں اور ریاستی طاقت کے استعمال کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں نے مختلف اوقات میں تشویش ظاہر کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر افراد کے خلاف گرفتاریوں، پابندیوں اور مبینہ خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹس شائع کی ہیں۔ ان اداروں نے سکیورٹی فورسز پر تشدد، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کا بھی ذکر کیا ہے۔ ایسے الزامات کی نوعیت، ان کی آزادانہ تحقیقات اور متعلقہ حکام کے مؤقف کو سامنے رکھنا ضروری ہے، لیکن ان سوالات کو محض اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ خطے کو ایک ریاست اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتی ہے۔ انسانی حقوق کی اہمیت کسی جغرافیائی دعوے یا سیاسی مؤقف کی محتاج نہیں ہوتی۔ اگر کسی شہری کو اپنی بات کہنے، اپنے سیاسی نظریے کا اظہار کرنے یا حکومتی پالیسی پر تنقید کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں تو یہ سوال اٹھانا ایک جائز شہری اور انسانی حق ہے۔

امریکہ کے آزادی ہاؤس (Freedom House) نامی ادارے کی 2026 کی رپورٹ میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کو 100 میں سے 38 نمبر دیے گئے، یہ ایک غیر سرکاری بین الاقوامی ادارے کی درجہ بندی ہے، جسے اس کے اپنے جائزے اور طریقۂ کار کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ تاہم اس نوعیت کی رپورٹس اس بحث کو تقویت دیتی ہیں کہ کسی خطے کو قومی وحدت کا حصہ قرار دینے کے ساتھ وہاں کے شہریوں کے حقوق، سیاسی شرکت اور آزادیوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اصل سوال محض یہ نہیں کہ بھارت جموں کشمیر کو کیا کہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اٹوٹ انگ کے طور پر بیان کیے جانے والے اس خطے کے عوام کو اپنی سیاسی، سماجی اور شہری زندگی میں کس حد تک اختیار حاصل ہے۔

دوسری طرف پاکستان جموں کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتا آیا ہے۔ پاکستانی ریاستی بیانیے میں یہ اصطلاح جغرافیائی، سیاسی اور تزویراتی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ پاکستان جموں کشمیر کو ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع قرار دیتا ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ تنازع کا حتمی حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی (متعلقہ) قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ مؤقف اپنی جگہ، لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس خطے کو پاکستان اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے، اس کے اندر رہنے والے انسانوں کو سیاسی اختیار، بنیادی حقوق، انصاف، معاشی مواقع اور حکمرانی میں شرکت کی کتنی ضمانت حاصل ہے؟ کیا شہ رگ کا تصور صرف ریاستی بیانیے، سفارتی تقاریر اور قومی جذبات تک محدود رہنا چاہیے، یا اس کا عملی اظہار وہاں کے شہریوں کی زندگیوں میں بھی دکھائی دینا چاہیے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں عوامی حقوق، معاشی مسائل، حکمرانی، سیاسی اختیار اور وسائل کی تقسیم کے سوالات وقتاً فوقتاً عوامی احتجاج کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ 2023 سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ان مطالبات کو نمایاں کیا جن میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی، بجلی اور آٹے کے مسائل، حکومتی اخراجات اور مراعات میں اصلاحات، عوامی نمائندگی اور جواب دہ حکمرانی جیسے معاملات شامل رہے ہیں۔ 2026 میں اس تحریک کے خلاف کارروائیوں، گرفتاریوں، انٹرنیٹ کی بندش، طاقت کے استعمال اور ہلاکتوں کے حوالے سے بھی انسانی حقوق کے اداروں نے تشویش ظاہر کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جون 2026 میں احتجاجی تحریک کے خلاف کارروائیوں اور تنظیم کو ممنوع قرار دیے جانے کے معاملے پر سوالات اٹھائے۔ ان واقعات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ جانچ، مختلف فریقوں کے مؤقف اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ہونی چاہیے، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر شہری اپنے بنیادی حقوق اور حکمرانی میں جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان مطالبات کو سننے اور ان کا پُرامن، آئینی اور جمہوری حل تلاش کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

کسی بھی ریاستی انتظام میں عوامی شکایات کو محض سیاسی مخالفت، بدنظمی یا بیرونی مداخلت کے عنوان سے رد کر دینا ان شکایات کے اسباب کو ختم نہیں کرتا۔ اگر لوگ بجلی، آٹے، تعلیم، صحت، روزگار، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیاسی اختیار کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان سوالات کا جواب دلیل، شفافیت اور عملی اقدامات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ ریاستی اختیار جہاں بھی موجود ہو، اس کے ساتھ جواب دہی کی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ یہی اصول بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں پر بھی لاگو ہوتا ہے اور پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں پر بھی۔ اگر انسانی حقوق کو عالمگیر اصول تسلیم کیا جاتا ہے تو ان کا اطلاق صرف مخالف ریاست کے زیرِ انتظام علاقے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ کسی جگہ ہونے والی مبینہ خلاف ورزی پر آواز اٹھانا اور دوسری جگہ اسی نوعیت کے سوالات پر خاموشی اختیار کرنا انسانی حقوق کے اصول کو سیاسی ضرورت کے تابع کرنے کے مترادف ہوگا۔

یہیں آ کر ریاست جموں کشمیر کا اصل انسانی المیہ سامنے آتا ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ یہ میرا اٹوٹ انگ ہے، پاکستان کہتا ہے کہ یہ میری شہ رگ ہے، لیکن ان دونوں بیانیوں کے درمیان کشمیری ریاستی شہری کا اپنا سوال اکثر پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ میں کہاں ہوں، میری سیاسی حیثیت کیا ہے اور میرے مستقبل کے فیصلے میں میری اپنی آواز کی اہمیت کتنی ہے؟ یہ محض جذباتی سوال نہیں بلکہ سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سے متعلق ایک بنیادی سوال ہے۔ اگر سری نگر کا شہری آزادیِ اظہار یا سیاسی اختیار کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے تو اس کی آواز اہم ہے۔ اگر مظفرآباد کا شہری حکمرانی، بنیادی حقوق اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اس کی آواز بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر گلگت بلتستان کا شہری اپنی آئینی حیثیت، سیاسی نمائندگی اور اختیار کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے تو اس کے سوال کو بھی اسی سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ اسی طرح جموں، لداخ اور ریاست کے دوسرے حصوں میں بسنے والے انسانوں کے حقوق، شناخت، زمین اور سیاسی مستقبل سے متعلق سوالات کو بھی کسی ایک ریاستی بیانیے کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔

ریاست جموں کشمیر کے زخموں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مختلف حصوں میں بسنے والے لوگوں کے تجربات کو ایک ہی پیمانے پر دیکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام علاقوں کے حالات، قوانین، سیاسی نظام یا انسانی حقوق کے مسائل یکساں ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر علاقے میں شہریوں کے حقوق کو یکساں اصولوں کے تحت جانچا جائے۔ بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں میں ریاستی طاقت کے استعمال، آزادیِ اظہار اور سیاسی اختیار سے متعلق الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں عوامی احتجاج پر طاقت کے استعمال، سیاسی آزادی، شہری حقوق اور حکومتی جواب دہی سے متعلق شکایات کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ چین کے زیرِ انتظام حصے میں بھی وہاں کے لوگوں کی سیاسی، سماجی اور شہری صورتِ حال کو اس بحث سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی طرح کسی بھی علاقے میں مسلح گروہوں کی جانب سے عام شہریوں کے خلاف تشدد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی شہری کا درد اس بات سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا کہ اس کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا فریق کس ریاست، جماعت یا نظریے سے تعلق رکھتا ہے۔

ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کا اثر صرف سیاست اور انتظامیہ تک محدود نہیں رہا۔ اس نے انسانوں کی یادداشت، خاندانی تعلقات اور اجتماعی شناخت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایک ماں جس کا بیٹا جنگ بندی لائن کے دوسری طرف رہتا ہے، اس کے لیے یہ لکیر کسی عسکری یا سفارتی اصطلاح سے کہیں زیادہ ذاتی معنی رکھتی ہے۔ ایک بزرگ جس کا آبائی گاؤں دوسری جانب رہ گیا، اس کے لیے وہ لکیر اس کے ماضی، اس کی یادوں اور اس کی زندگی کے ایک بچھڑے ہوئے حصے کی علامت ہے۔ وہ خاندان جن کے افراد مختلف جانب رہ گئے، ان کے لیے ملنے کی خواہش سیاسی مذاکرات اور انتظامی اجازتوں سے مشروط ہو گئی۔ نوجوان نسل کے لیے ریاست کے مختلف حصوں سے رابطہ، مشترکہ تاریخ کو سمجھنا اور ایک دوسرے کے تجربات سے واقف ہونا بھی ممکن نہیں۔ یوں سیاسی تقسیم نے صرف زمین کو نہیں بانٹا بلکہ ایک مشترکہ معاشرتی تجربے کو بھی مختلف سمتوں میں دھکیل دیا ہے۔

ریاست جموں کشمیر کا ایک اور گہرا زخم یہ ہے کہ اس کے نام پر بہت کچھ کہا گیا، بہت کچھ کیا گیا، جنگیں ہوئیں، فوجیں تعینات ہوئیں، سفارتی مہمات چلیں، بین الاقوامی فورمز پر تقاریر ہوئیں، انتخابات ہوئے اور مختلف سیاسی تحریکیں سامنے آئیں، لیکن اس کے عوام کے سیاسی مستقبل کا سوال اب بھی حل طلب ہے۔ اس تاریخ میں مختلف فریقوں کے اپنے اپنے مؤقف، ذمہ داریاں اور دعوے ہیں، جن کا جائزہ شواہد اور تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں حقیقی، آزاد اور باوقار طریقے سے رائے دینے کا موقع کب اور کیسے میسر ہوگا؟ کیا ان کی خواہشات کو دو طاقتوں کے ریاستی مفادات، قومی سلامتی، جغرافیائی دعووں اور طاقت کے سیاسی بیانیوں سے الگ سننے کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی؟ کیا ان کی سیاسی آواز کو صرف اسی وقت اہمیت دی جائے گی جب وہ کسی ایک ریاست کے مؤقف کی تائید کرے، یا اختلافِ رائے کی صورت میں بھی اسے برابر کا احترام حاصل ہوگا؟

اس سوال کا تعلق صرف بھارت یا پاکستان کی حکومتوں سے نہیں بلکہ پوری سیاسی قیادت، انسانی حقوق کے اداروں، بین الاقوامی برادری اور خود کشمیری معاشرے سے بھی ہے۔ اگر ریاست جموں کشمیر کو ایک جسم سمجھا جائے تو اس کے علاج کا آغاز اس بحث سے نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا کون سا حصہ کس ریاست کا اٹوٹ انگ ہے یا کس ملک کی شہ رگ ہے۔ علاج کا آغاز اس بات سے ہونا چاہیے کہ اس جسم کے اعضا، یعنی اس کے اندر بسنے والے انسانوں کی ضروریات، حقوق، سیاسی خواہشات اور مستقبل کے تصورات کیا ہیں۔ انہیں کس نوعیت کی حکمرانی درکار ہے؟ وہ اپنے وسائل، زمین اور سیاسی اختیار کے بارے میں کیا چاہتے ہیں؟ کیا ان کے لیے اختلافِ رائے، آزاد صحافت، پُرامن احتجاج اور جواب دہ حکومت کا ماحول موجود ہے؟ اور کیا ان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے فیصلوں میں ان کی اپنی آواز کو حقیقی اہمیت دی جاتی ہے؟

اگر بھارت جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے تو اس دعوے کے ساتھ وہاں کے ہر شہری کے حقوق، آزادی اور سیاسی وقار کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داری بنتا ہے۔ اگر پاکستان جموں کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتا ہے تو اس اصطلاح کا عملی مفہوم بھی وہاں کے لوگوں کے بنیادی حقوق، جمہوری اختیار، انصاف اور عزتِ نفس میں دکھائی دینا چاہیے۔ اسی طرح اگر کشمیری سیاسی قیادت ریاست کے مستقبل کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے بھی اپنے طرزِ عمل، عوامی شمولیت، اختلافِ رائے کے احترام اور جواب دہی کے اصولوں پر خود احتسابی کرنی ہوگی۔ کسی بھی سیاسی تحریک یا قیادت کی ساکھ صرف اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی متعین ہوتی ہے کہ وہ عام شہری کے حقوق اور اختیار کو کس حد تک اپنی عملی ترجیحات میں جگہ دیتی ہے۔

ریاست جموں کشمیر آج بھی ایک ایسا جسم ہے جسے تاریخ نے زخمی کیا، جنگوں نے تقسیم کیا، سیاسی فیصلوں نے مختلف انتظامی حصوں میں بانٹا اور دو ریاستی بیانیوں نے اپنے اپنے مفادات کے مطابق مختلف نام دیے۔ بھارت اسے اٹوٹ انگ کہتا ہے، پاکستان اسے شہ رگ قرار دیتا ہے، لیکن اس ریاست کے پہاڑوں، وادیوں، شہروں اور دیہات میں بسنے والے انسان محض کسی ریاست کے جسم کا حصہ نہیں؛ وہ اپنی تاریخ، شناخت، حقوق، خواہشات اور مستقبل رکھنے والے مکمل انسان ہیں۔ ان کے زخم صرف سرحدوں سے متعلق نہیں بلکہ سیاسی اختیار، آزادیِ اظہار، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، خاندانی تعلقات اور انسانی وقار سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان زخموں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ دو ریاستی دعووں کے ساتھ ساتھ ریاست جموں کشمیر کے حقیقی وارثوں کے تجربات کو بھی مرکزِ بحث بنایا جائے۔

اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے یا پاکستان کی شہ رگ۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس ریاست کو دو جوہری طاقتیں اپنے اپنے قومی اور سیاسی مفادات کے تناظر میں اپنے جسم کا حصہ قرار دیتی ہیں، اس کے زخمی انگ انگ کا علاج کون کرے گا؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کبھی اس ریاست کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں اپنی آزادانہ خواہشات کے مطابق فیصلہ کرنے کا حقیقی اور باوقار موقع میسر ہوگا؟ کیونکہ کسی خطے کے بارے میں دعوے جتنے بھی بڑے ہوں، اس کے باشندوں کے حقوق اور انسانی وقار سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے۔ اٹوٹ انگ ہو یا شہ رگ، جب جسم زخمی ہو تو اس کے درد کو نعروں سے نہیں، انصاف، اختیار، جواب دہی اور انسانی حقوق کے تحفظ سے کم کیا جا سکتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے زخموں کا اصل علاج بھی اسی وقت ممکن ہوگا جب اس کے لوگوں کو محض کسی جغرافیائی دعوے کا حصہ نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے حقیقی فریق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

کیونکہ زخم چاہے اٹوٹ انگ کہنے والوں کی طرف سے ملے یا شہ رگ کہنے والوں کی طرف سے، درد ہمیشہ ریاست جموں کشمیرکے حقیقی وارث ہی کو ہوتا ہے۔

٭٭٭

Share this content: