بلوچستان کے علاقے قلات اور مستونگ کے درمیان سفر کرنے والے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے، جبکہ ایک الگ واقعے میں ضلع قلعہ عبداللہ میں پولیس کی ایک خالی چوکی بھی مسمار کر دی گئی ہے۔
اس واقعے نے بلوچستان میں عسکری و انتظامی ناکامی اور ریاستی رٹ کے خاتمے کو مزید واضح کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ اہلکار قلات پولیس ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے تھے اور ہفتہ وار چھٹی پر ایک نجی وین میں سوار ہو کر قلات سے نوشکی جا رہے تھے۔ سینیئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ مغوی اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن کے چار اضلاع (واشک، چاغی، خاران اور نوشکی) سے ہے، جن میں سے 8 کا تعلق خاران سے بتایا جاتا ہے۔
اہلکاروں نے قلات سے نوشکی جانے کے لیے سربند کا مختصر راستہ اختیار کیا تھا، جہاں مسلح افراد نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کو ضلع قلات کی حدود سے اغوا کرنے کے بعد ضلع مستونگ کے علاقے گرگینہ/کردگاپ منتقل کیا اور پھر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
تاہم، مسلح افراد نے کچھ فاصلے پر گاڑی کے ڈرائیور اور دو سے تین دیگر عام مسافروں کو رہا کر دیا، جبکہ پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں، تاہم تاحال کسی مسلح گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سرکاری و انتظامی اہلکاروں کے اغوا کے پے در پے واقعات نے ریاستی مشینری کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے رخشان ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ اور ان کے ڈرائیور کو اغوا کیا تھا، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اس سے قبل 20 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر خاران اور ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کو بھی اغوا کیا گیا تھا، جنہیں بعد ازاں تنبیہ کے ساتھ رہا کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے پنکئی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی ایک خالی چوکی کو مسمار کر دیا ہے۔
کوئٹہ میں پولیس حکام کے دعوے کے مطابق اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، جس کے بعد حملہ آور پنجپائی کی جانب فرار ہو گئے۔
زمینی حقائق اس بات کے شاہد ہیں کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور آزادی پسند قوتوں کی رسائی اور کنٹرول میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
Share this content:


