کیا کوئی مخصوص لباس انسان کو قتل کرنے کا پروانہ ہے؟ کیا وردی خون کا داغ مٹا سکتی ہے؟

تحریر: خواجہ کبیر احمد

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ انسان انسان کو قتل کرتا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان نے قتل کو مختلف نام دے کر کبھی اسے جرم، کبھی جنگ، کبھی حکم، کبھی فرض اور کبھی روزگار قرار دے کر اس کی سنگینی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک شخص کسی کو قتل کرنے کے لیے پیسے لیتا ہے۔ اسے کرائے کا قاتل کہتے ہیں۔ اسے کسی شخص کو قتل کرنے کے لیے ہائر کیا جاتا ہے، رقم طے ہوتی ہے، بندوق یا کوئی اور ہتھیار استعمال ہوتا ہے اور ایک انسان کی زندگی ختم کردی جاتی ہے۔ قاتل اپنی رقم لے کر واپس چلا جاتا ہے اور مقتول کا خاندان ہمیشہ کے لیے اپنے پیارے سے محروم ہوجاتا ہے۔

اب ذرا دوسرا منظر دیکھیے۔ ایک شخص سرکاری ملازمت اختیار کرتا ہے۔ اسے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے، وردی ملتی ہے، ہتھیار چلانے کی تربیت ملتی ہے اور ایک دن اسے حکم دیا جاتا ہے کہ فلاں جگہ جاؤ۔ وہاں احتجاج کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ (وہ نہتے ہیں، اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ) اگر اسے حکم ملتا ہے کہ فائر کرو، اور وہ فائر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک نہتا انسان مارا جاتا ہے، تو اخلاقی سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ مقتول کے لیے کیا فرق باقی رہ جاتا ہے کہ گولی چلانے والے نے قتل کی رقم ایک مرتبہ لی تھی یا ہر ماہ تنخواہ لیتا تھا؟

جب ایک نہتے انسان کو قتل کیا جاتا ہے تو مقتول کے خون کی قیمت اس بات سے کم نہیں ہوجاتی کہ قاتل نے وردی پہن رکھی تھی۔

اگر کسی شخص کو کسی انسان کو قتل کرنے کے بدلے رقم دی جائے تو کیا رقم اس قتل کی حقیقت بدل دیتی ہے؟ اگر ایک شخص دس لاکھ روپے لے کر قتل کرے تو دس لاکھ روپے مقتول کو زندہ نہیں کرتے۔ اگر کوئی شخص ماہانہ تنخواہ لے کر کسی انسان کی جان لے تو ماہانہ تنخواہ بھی مقتول کے خاندان کو وہ زندگی واپس نہیں دے سکتی جو اس سے چھین لی گئی۔ فرق صرف معاوضے کے طریقے کا ہے؛ انسانی جان کی قیمت میں کوئی فرق نہیں۔

اسی لیے دونوں صورتوں کو سامنے رکھ کر سوال کیا جاسکتا ہے۔ ایک نے کہا، "مجھے پیسے دو، میں اسے مار دوں گا۔” دوسرے نے کہا، "مجھے حکم دو، میں اسے مار دوں گا۔” اگر دونوں صورتوں میں ایک انسان کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا تو مقتول کے خاندان سے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ پہلے قاتل کا عمل زیادہ سنگین ہے کیونکہ وہ سول کپڑوں میں تھا، جبکہ دوسرے نے سرکاری وردی پہن رکھی تھی۔ مقتول کے لیے وردی اور سول لباس میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ گولی دونوں صورتوں میں جسم کو چیرتی ہے، خون دونوں صورتوں میں سرخ ہوتا ہے اور موت دونوں صورتوں میں ایک ہی ہوتی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں عوامی حقوق کی احتجاجی تحریک کے دوران شہری ہلاکتوں اور طاقت کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے جون 2026 سے ہونے والی تمام مبینہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اس نے طاقت کے استعمال اور ریاستی و احتجاجی فریقوں سے متعلق مختلف بیانات کا بھی ذکر کیا ہے۔

فرض کریں ایک شخص چاقو لے کر ایک انسان کو قتل کردیتا ہے۔ لوگ اسے قاتل کہتے ہیں۔ اگلے دن وردی پہنے ایک شخص کسی نہتے شخص پر چاقو چلاتا ہے اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا وردی مقتول کے زخم کو بدل دیتی ہے؟ زخم وہی ہے،موت وہی ہے، ماں کا بیٹا وہی ہے، بیوی کا شوہر وہی ہے،بچے کا باپ وہی ہے،پھر قاتل کے لباس کو انسانی جان کی قدر کا پیمانہ کیسے بنایا جاسکتا ہے؟

اصل سوال ہمیشہ یہی رہے گا کہ کسے مارا گیا؟ کیوں مارا گیا؟ کس نے مارا؟ کس حکم کے تحت مارا؟ یہ سوال فوج کے خلاف نہیں، انسانی جان کے حق میں ہے،یہ سوال سپاہی کی وردی کے خلاف نہیں، انسانی ضمیر کے حق میں ہے۔

کیونکہ ایک مہذب ریاست کی طاقت اس بات سے ثابت نہیں ہوتی کہ اس کے پاس کتنی بندوقیں ہیں؛ بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ وہ انسانی جان کی کتنی قدر کرتی ہے۔ اور اگر کسی شخص کے ہاتھوں ایک نہتے انسان کی جان لے لی جائے تو اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جان لینے والا کون تھا، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس نے انسان کو کیوں مارا؟

اگر ہم مسلمان ہیں اور قرآن پر ایمان ہے تو قرآن مجید میں انسانی جان کی حرمت کے حوالے سے واضح ارشاد ہے کہ جو شخص ایک جان کو قتل کرے، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جو ایک جان کو بچائے، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ یہ تصور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ ایک انسان صرف ایک فرد نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے، ایک ماں ہوتی ہے، ایک باپ ہوتا ہے، اولاد ہوتی ہے، دوست ہوتے ہیں، خواب ہوتے ہیں، مستقبل ہوتا ہے۔ جب ایک انسان کو قتل کیا جاتا ہے تو صرف ایک جسم زمین پر نہیں گرتا؛ اس کے ساتھ اس سے وابستہ بے شمار زندگیاں بھی بدل جاتی ہیں۔

اسی لیے قاتل کا ہاتھ اگر کرائے کی رقم سے حرکت میں آیا ہو یا ماہانہ تنخواہ سے، سول لباس میں ہو یا وردی میں، نجی شخص کے حکم پر اٹھا ہو یا کسی سرکاری افسر کے حکم پر،اگر اس نے ایک انسان کو قتل کیا ہے تو مقتول کی انسانیت کم نہیں ہوجاتی اور قتل کی سنگینی ختم نہیں ہوجاتی۔

کسی شہری کی موت کو محض یہ کہہ کر نظرانداز کرنا کہ "قانون کی بالا دستی یا حکومتی رٹ کے لیے حکم کی تعمیل ہوئی تھی” انصاف کا مکمل تصور نہیں ہوسکتا۔ انصاف کا اصول سادہ ہے کہ جس نے جو کیا، اس کی ذمہ داری شواہد کی بنیاد پر اسی پر عائد ہو۔

کیونکہ تاریخ مقتول سے یہ نہیں پوچھتی کہ اسے مارنے والے نے وردی پہنی ہوئی تھی یا سول کپڑے۔ مقتول صرف یہ جانتا ہے کہ وہ زندہ تھا، اسے مار دیا گیا۔

اور انسانیت کا سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا کسی انسان کو قتل کرنے کے لیے قاتل کے پاس کوئی ایسا لباس ہوسکتا ہے جو اس کے ہاتھ سے خون کا داغ مٹا دے؟جواب اگر نہیں ہے تو پھر ہمیں قاتل کے لباس سے پہلے مقتول کی انسانیت دیکھنی ہوگی۔کیونکہ خون کا رنگ وردی نہیں دیکھتا۔ کوئی مخصوص لباس انسان کو قتل کرنے کا اجازت نامہ نہیں ہو سکتا اور نا ہی کوئی وردی خون کا داغ مٹا سکتی ہے۔

***

Share this content: