تحریر: کامران کریم
18 اکتوبر کو امریکی چارج ڈی افیئرز نیٹلی اے بیکر (Natalie A. Baker) نے سکردو میں گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ (Syed Mehdi Shah) سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ستپارہ ڈیم کا دورہ کیا۔ سرکاری خبر (APP) کے مطابق بات چیت میں تعلیم، ستپارہ ڈیم، پانی، بجلی اور سیاحت کے ساتھ فل برائٹ (Fulbright) اور ہمفری (Humphrey) جیسے طلبہ کے پروگرام زیرِ بحث آئے۔ اسی خبر میں بیکر کا یہ بیان بھی درج ہے کہ ان کا ملک مقامی جامعات کے ساتھ شراکت داری بنا رہا ہے، جس میں اہم معدنیات اور کان کنی کی پیشہ ورانہ تربیت کی معاونت بھی شامل ہے۔
سفارتی دورے ہوا میں نہیں ہوتے۔ جون 2025 میں یہی سفارت کار اپنے ملک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں آنے کی دعوت دے چکی ہیں۔ اس سال اگست میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ سرمایہ کار گلگت بلتستان کی نایاب معدنیات اور خیبر پختونخوا کے تانبے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور واشنگٹن EXIM بینک اور DFC کے ذریعے بڑے منصوبوں کی مالی معاونت کو تیار ہے۔ اسی اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ ان کی حکومت نے 60 معدنیات کو مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ ان باتوں کو ساتھ رکھ کر پڑھیں تو سکردو کی مسکراہٹوں کا مطلب بدل جاتا ہے۔
نوآبادیاتی تاریخ کا پہلا سبق یہ ہے کہ لوٹ مار سے پہلے زمین کو ’’خالی‘‘ بنایا جاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید (Edward Said) نے اسی کو مشرق کی تصویر کشی کہا تھا۔ اسی سال ایک امریکی کان کنی کمپنی کے سربراہ نے پاکستان کو معدنی تلاش کے لیے ’’کنوارا ملک‘‘ کہا۔ مگر ہمارے پہاڑ کنوارے نہیں، آباد ہیں۔ ان میں بلتستان کے گاؤں ہیں، ہنزہ اور غذر کی وادیاں ہیں، دیامر اور استور کی چراگاہیں ہیں اور وہ برف ہے جو ہمارے بچوں کا پانی ہے۔ جب زمین کو ’’خالی‘‘ کہا جاتا ہے تو اس پر بسنے والے لوگ کاغذ سے مٹ جاتے ہیں۔
سب سے بڑا سبق خود امریکہ کی اپنی تاریخ دیتی ہے۔ امریکہ کے پاس نایاب معدنیات موجود ہیں، اور کیلیفورنیا کی ماؤنٹین پاس (Mountain Pass) کان کبھی دنیا کی سب سے بڑی کان تھی۔ مگر اس سے زہریلے پانی کے بار بار رساؤ نے موجاوے (Mojave) کے محفوظ علاقے کو آلودہ کیا، 1997 میں قانونی کارروائی ہوئی اور 2002 میں کان بند ہو گئی۔ چین کی سستی قیمتیں بھی ایک وجہ تھیں، مگر ماحولیاتی قوانین کی سختی اور لاگت بھی۔ اس کے بعد امریکہ نے کان کنی اور صفائی کا گندا کام بڑی حد تک چین کے حوالے کر دیا۔ ایک امریکی جریدے نے اسی کو ماحول بچانے کے نام پر اپنی آلودگی دوسروں تک پہنچانا کہا۔ ماحولیاتی تنظیم ارتھ ورکس (Earthworks) کے ایک ماہر نے خود مانا کہ یہ کام گندا اور آلودہ کن ہے اور اسی لیے چین میں ہوتا رہا۔
آج بھی جب واشنگٹن اپنے ملک میں نئی کانیں چاہتا ہے تو ٹیکساس کے ایک قصبے جیسے مقامی لوگ آلودگی کے خدشے پر پریشانی ظاہر کر چکے ہیں۔ تو سوال سیدھا ہے: جو کام امریکہ اپنے لوگوں کے لیے خطرناک سمجھ کر چھوڑ چکا، کیا وہی ہمارے گاؤں کے پاس کروانے کے لیے موزوں ہے؟ یہ ماحولیاتی نوآبادیات ہے، یعنی فائدہ ایک جگہ اور زہر دوسری جگہ۔
اور یہ خطرہ ہمارے لیے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ نایاب معدنیات کو الگ کرنے کے عمل میں تیزاب اور کیمیائی مادے استعمال ہوتے ہیں اور زہریلا، بعض صورتوں میں تابکار فضلہ نکلتا ہے۔ چین میں ایسے منصوبوں سے ہوا اور پانی کی آلودگی، کھیتوں کی تباہی اور بیماری کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ہماری وادیاں تنگ ہیں، گاؤں نالوں اور گلیشیئر کے پانی کے کنارے آباد ہیں، اور لوگ وہی پانی پیتے اور کھیتوں کو دیتے ہیں۔ اگر کان یا اس کا ملبہ بالائی علاقے میں ہو تو زہر نیچے کے گاؤں تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ اس پر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا بڑھتا خطرہ ہے، اور بلاسٹنگ، سڑکوں اور دھول سے برف کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ یہ خطرات ہیں، یقینی نتیجہ نہیں، مگر اتنے بڑے ہیں کہ آزاد ماحولیاتی جائزے اور صحت کی نگرانی کے بغیر ایک کدال بھی نہیں چلنی چاہیے۔
اس سے بھی تلخ بات یہ ہے کہ ہمارے پہاڑوں کے سودے ہمارے بغیر ہو رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کو آج تک آئینی حیثیت نہیں ملی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہماری نمائندگی نہیں، اور جو فیصلے ہماری نسلوں کا مقدر طے کریں گے وہ اسلام آباد اور واشنگٹن کی میزوں پر ہوتے ہیں۔ پوسٹ کالونیل فکر اسے اندرونی نوآبادیات کہتی ہے: مرکز بیرونی سرمائے کا ثالث بن جاتا ہے اور اطراف کے لوگوں سے رضامندی تک نہیں پوچھی جاتی۔ پاکستان اور امریکی کمپنیوں کے معدنی معاہدوں پر اپوزیشن پہلے ہی خفیہ پن کے الزامات لگا چکی ہے، اور آج تک ہمیں ان معاہدوں کی شرائط نہیں بتائی گئیں۔
اور اب ایک تلخ سوال ان سے جو ہمارے دانشور اور رائے ساز کہلاتے ہیں۔ امریکی سفارت کار نے گلگت بلتستان کے مختلف مقامات کا دورہ کیا، اور انہوں نے ہنزہ کا بھی دورہ کیا، جس کے ہم خود چشم دید گواہ ہیں۔ اس کے بعد ہنزہ جیسے علاقوں میں جو گرم جوشی اور تعریف کا ماحول ہمیں نظر آیا، وہ ہمارے لیے حیران کن ہے۔ ہم مہمان نوازی کے خلاف نہیں، یہ ہماری روایت ہے اور مہمان کا احترام ہم پر فرض ہے۔ مگر احترام اور خاموشی میں فرق ہوتا ہے۔ دورے کو گزرے کئی دن ہو چکے، لیکن کسی تنظیم، جرگے، بار ایسوسی ایشن، جامعہ کے اساتذہ یا قلم کار نے عزت اور شائستگی کے ساتھ مہمان سے یہ نہیں پوچھا کہ ان کے ملک کے سرمایہ کار ہمارے پہاڑوں میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں، اور ماؤنٹین پاس کی کہانی ہمارے ہاں کیوں نہیں دہرائی جائے گی۔ کوئی مشترکہ یادداشت نہیں، کوئی کھلا خط نہیں، کوئی پرامن اجتماع نہیں۔ یہ خاموشی لاعلمی ہے، مرعوبیت ہے، مستقبل کے مواقع (اسکالرشپ، فنڈنگ، تعلقات) کی امید ہے، یا خوف؟ ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ مگر فرانز فینن (Frantz Fanon) نے مقامی اشرافیہ کے اسی کردار پر خبردار کیا تھا جو طاقتور کے لیے درمیانی کڑی بن جاتی ہے، اور دانشور کا کام تالیاں بجانا نہیں، سوال پوچھنا ہے۔ سوال کا بہترین طریقہ احترام ہے، خاموشی نہیں۔
اس تصویر میں عسکری اداروں کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ستمبر 2025 میں جس 50 کروڑ ڈالر کے معاہدے پر امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (US Strategic Metals) کے ساتھ دستخط ہوئے، اس میں پاکستان کی طرف سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (Frontier Works Organization) شامل ہے، جو پاک فوج کا انجینئرنگ ادارہ ہے۔ معدنی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے والی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کو ناقدین فوجی اثر والا ادارہ کہتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک خیبر پختونخوا میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں منرلز ایکٹ 2025 (Minerals Act 2025) کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی (Awami National Party) نے تحریک کا اعلان کیا۔ ایمل ولی خان (Aimal Wali Khan) کا الزام ہے کہ وہاں کی معدنیات پہلے ہی عسکری اداروں کے قبضے میں ہیں اور نیا قانون اس قبضے کو قانونی جواز دے رہا ہے۔ مقامی حلقوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ باجوڑ جیسے علاقوں میں فوجی کارروائیاں اور نقل مکانی وسائل والے علاقوں کو خالی کرانے کا بہانہ بنتی ہیں۔ ہم ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت نہیں کہتے، مگر خیبر پختونخوا کا تجربہ ہمارے لیے آئینہ ہے۔ جہاں معدنیات ہوں، وہاں سلامتی کے مسائل اور سودے ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں، اور جہاں آواز آئینی طور پر کمزور ہو وہاں یہ سب زیادہ آسانی سے ہو سکتا ہے۔ ہم عسکری اداروں سے احترام کے ساتھ مگر دو ٹوک مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کے معدنی معاملات میں فریق نہ بنیں اور فیصلہ سازی ان لوگوں کے ہاتھ میں رہنے دیں جن کی زمین ہے۔
روزگار کا وعدہ ہر نوآبادیاتی منصوبے کا پہلا وعدہ ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں نایاب معدنیات کو صاف کرنے کا نظام تقریباً موجود نہیں، اور اب تک کی برآمدات خام مال یا کنسنٹریٹ کی صورت میں گئی ہیں۔ یعنی پہاڑ ہمارا کٹے گا، مگر اصل قیمت، ٹیکنالوجی اور منافع پروسیسنگ کرنے والے ملک میں بنے گا۔ ہمارے نوجوانوں کے حصے میں کم اجرت کی مشقت، عارضی کام اور ملبہ آ سکتا ہے۔ یہ بالکل وہی نمونہ ہے جس میں کالونی خام مال دیتی تھی اور تیار مال مہنگے داموں خریدتی تھی۔ اور دیکھیے کہ سکردو میں بیکر نے خود جامعات کی شراکت اور اہم معدنیات و کان کنی کی پیشہ ورانہ تربیت کی بات کی۔ تو کیا تعلیمی تعاون کا ایک مقصد کان کنی کے لیے مقامی افرادی قوت تیار کرنا ہے، ایسی افرادی قوت جو خام مال نکالے مگر اس کی قیمت اور ٹیکنالوجی کا حصہ نہ پائے؟ یہ سوال بھی جائز ہے کہ ہمارے پہاڑوں کا مال کس مقصد کی ٹیکنالوجی میں جائے گا۔ جب امریکی اہلکار خود دفاعی ٹیکنالوجی کو ان معدنیات کا مقصد بتائیں اور ہمارا خطہ چین کی سرحد پر ہو، تو ہمیں خدشہ ہے کہ ہمیں امریکہ اور چین کی معدنی دوڑ کا میدان بنایا جا سکتا ہے۔ کوئی ثبوت نہیں کہ یہ مال ہمارے خلاف استعمال ہوگا، مگر یہ جاننا ہمارا حق ہے کہ وہ کہاں جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں۔ جواب شور نہیں، منظم، پرامن اور آئینی جدوجہد ہے۔ سب سے پہلا قدم ایک مہذب مشترکہ یادداشت ہو، جس پر ہر وادی کی تنظیمیں، جرگے، وکلا، اساتذہ، طلبہ اور علما دستخط کریں، اور جو امریکی سفارت خانے اور گلگت بلتستان حکومت دونوں کو بھیجی جائے۔ اس میں وہی سوال ہوں جو ہم نے اوپر اٹھائے: تمام معدنی معاہدوں کی عوامی اشاعت، مقامی برادریوں کی پیشگی اور باخبر رضامندی کے بغیر کسی منصوبے کی ممانعت، آبادیوں کے قریب کان کنی اور پروسیسنگ پر پابندی، آزاد ماحولیاتی اور صحتی جائزہ، رائلٹی اور ملکیت میں مقامی حصہ، پروسیسنگ خطے کے اندر، اور سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کو آئینی حقوق اور نمائندگی۔ گلگت، ہنزہ، نگر، غذر، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے اور شگر، سب مسلکی اور علاقائی فرق بھلا کر ایک آواز بنیں، کیونکہ ہماری تقسیم ہی دوسروں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ قراردادیں منظور کی جائیں، گلگت بلتستان اسمبلی سے بحث اور معاہدوں کی کاپیاں طلب کی جائیں، معلومات تک رسائی کے قانون سے کام لیا جائے، عدالتوں میں درخواستیں دی جائیں، پرامن ریلیاں اور سیمینار ہوں، اور سوشل میڈیا پر تحقیق شدہ حقائق پھیلائے جائیں۔ تشدد ہماری تحریک کو کمزور کرے گا، علم اور اتحاد اسے ناقابلِ نظرانداز بنائیں گے۔
دوسرا نقطۂ نظر بھی سامنے رہے۔ حکومت اور سرمایہ کاری کے حامی کہتے ہیں کہ معدنیات سے آمدنی اور روزگار آئے گا اور آئی ایم ایف پر انحصار کم ہوگا۔ امریکہ اب اپنی ماؤنٹین پاس کان دوبارہ چلا چکا ہے، اور حامیوں کے مطابق جدید طریقے ماضی سے صاف ہیں۔ خود حکومتی ریکارڈ کے مطابق خیبر پختونخوا میں دی گئی 4,917 کان کنی لائسنسوں میں سے فوج کے ماتحت ادارے کو صرف ایک ملا، اور فوج نے سابق افسران کے تقریباً 40 لائسنس منسوخ کروائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ذخائر کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کیے گئے اور امریکی ارضیاتی سروے (US Geological Survey) کی فہرست میں پاکستان کے نایاب معدنی ذخائر شامل نہیں۔ جو لوگ مہمان کا خیرمقدم کرتے ہیں، ان کا مقصد بھی مثبت تعلقات ہو سکتا ہے، اور خیرمقدم اور سوال ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ ہمارا اعتراض سرمایہ کاری سے نہیں، اس طریقے سے ہے جس میں مقامی لوگوں سے پوچھا ہی نہ جائے۔ ترقی اگر ہماری رضامندی اور حصہ داری سے آئے تو خوش آمدید، اور اگر ہمارے سر کے اوپر سے گزرے تو وہ پرانی کہانی کا نیا باب ہے۔ فیصلے کا وقت سودے ہونے سے پہلے ہے، بعد میں نہیں۔
٭٭٭
Share this content:


