فیچر رپورٹ: فرحان طارق
راولاکوٹ سے مظفرآباد تک پھیلی احتجاجی تحریک، ہلاکتوں کے متضاد دعوے، ناکام مذاکرات اور موسمِ سرما کی آمد؛ کیا طویل دھرنا حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کسی نتیجہ خیز معاہدے پر منتج ہو سکے گا؟
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری عوامی احتجاج اب محض ایک سیاسی تحریک نہیں رہا، بلکہ یہ خطے میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری کشمکش کی علامت بن چکا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) کے زیرِ اہتمام جاری دھرنوں کو 138 دن گزر چکے ہیں۔ یوں یہ احتجاج پاکستان تحریکِ انصاف کے 2014 میں اسلام آباد میں دیے گئے 126 روزہ دھرنے سے بھی طویل ہو چکا ہے۔
لیکن ان دونوں دھرنوں کے درمیان ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا دھرنا قومی سیاست کے مرکز میں تھا، جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج مقامی مطالبات، حکومتی اقدامات، گرفتاریوں اور شہری ہلاکتوں کے متنازع واقعات کے گرد آگے بڑھ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے حالات تھے جنہوں نے خطے میں جاری احتجاج کو ایک طویل دھرنے میں بدل دیا؟ مذاکرات کے باوجود تعطل کیوں برقرار ہے؟ اور کیا سردیوں کی آمد اس تحریک کے لیے کوئی نیا امتحان ثابت ہوگی؟
مذاکرات سے تصادم تک کا سفر
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج کی موجودہ لہر گزشتہ دو برس سے مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ تاہم پانچ اور چھ جون کی درمیانی شب پیش آنے والے واقعات نے اس تحریک کو ایک نیا رخ دے دیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے حکومتی اقدام، انٹرنیٹ کی بندش، کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کی اطلاعات کے بعد صورتِ حال مزید کشیدہ ہوگئی۔
ضلع پونچھ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری کو گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران تصادم ہوا، جس میں شازیب حبیب نامی شہری کی ہلاکت ہوئی۔
اس واقعے کے بعد راولاکوٹ میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ شازیب حبیب کی میت شیخ زید بن سلطان النہیان اسپتال کے باہر رکھ کر احتجاج شروع کیا گیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا تھا جب حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔
30 مئی کے مذاکرات اور 7 جون کی امید
30 مئی کو مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی، خطے کی حکومت اور پاکستانی وزرا کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ تاہم یہ نشست کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی، لیکن سات جون کو ایک اور نشست متوقع ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کے لیے نو جون کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔
اس طرح ایک طرف مذاکرات کی امید باقی تھی، تو دوسری طرف احتجاجی مارچ کی تیاری بھی جاری تھی۔ مگر حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ مذاکرات کی اگلی نشست سے پہلے ہی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔
راولاکوٹ کا دھرنا اور شازیب حبیب کی ہلاکت
پانچ جون کو راولاکوٹ میں شروع ہونے والا دھرنا سات اور آٹھ جون کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے ذریعے ختم کروا دیا گیا۔ احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے شازیب حبیب کی میت بھی حکام نے اپنی تحویل میں لے لی۔
اس واقعے نے مظاہرین کے غصے میں مزید اضافہ کیا اور احتجاجی تحریک کے لیے ایک نیا موڑ پیدا کردیا۔
قوم پرست رہنما سردار امان کے مطابق، ریاستی طاقت کے استعمال اور احتجاجی تحریکوں کے درمیان کشمکش خطے کی تاریخ میں نئی نہیں
تاہم اس مرحلے پر بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا طاقت کے استعمال سے احتجاج ختم کیا جاسکتا ہے، یا اس کے نتیجے میں تحریک مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے؟
بھمبر سے راولاکوٹ تک: لانگ مارچ اور کرفیو کی صورتِ حال
نو جون کو عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے اعلان کے مطابق بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔
مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور طاقت کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مختلف واقعات میں شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں، تاہم ہلاکتوں کی تعداد اور واقعات کی تفصیلات کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے۔
لانگ مارچ دس جون کو راولاکوٹ پہنچا، لیکن شرکا شہر میں داخل نہ ہوسکے۔ اس وقت راولاکوٹ میں کرفیو جیسی پابندیوں اور نقل و حرکت میں رکاوٹوں کی اطلاعات تھیں۔ مقامی سطح پر کرفیو نافذ ہونے کی بات کی جاتی رہی، تاہم اس کے باضابطہ اعلان اور نوٹیفکیشن سے متعلق صورتِ حال واضح نہیں تھی۔
یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ تنازع اب محض مطالبات کی منظوری تک محدود نہیں رہا تھا، بلکہ شہری آزادیوں، ریاستی اقدامات اور احتجاج کے حق سے متعلق سوالات بھی اس کے ساتھ جڑ چکے تھے۔
ہلاکتوں کی تعداد: دعوے مختلف، سوالات برقرار
عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد سب سے متنازع معاملات میں سے ایک رہی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر عابد شاہین کے مطابق، ان کے لیے تمام متاثرہ افراد کی صورتِ حال کا درست تعین کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں کہ وہ کہاں ہیں، آیا وہ تھانوں میں ہیں یا ہلاک ہوچکے ہیں۔
انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے ایک اندازہ پیش کیا، تاہم یہ تعداد آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار کے طور پر سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آیا۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے ہلاکتوں کے دعوؤں کے ثبوت طلب کیے۔
وفاقی حکومت کے نمائندے رانا ثنا اللہ نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے دعوؤں سے مختلف اندازہ پیش کیا۔
یوں ہلاکتوں کے معاملے پر فریقین کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔
ان متضاد دعوؤں کے درمیان اصل ضرورت ایسے شفاف اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی ہے جن سے یہ معلوم ہوسکے کہ کتنے افراد ہلاک ہوئے، کتنے زخمی ہوئے اور کتنے افراد کی گرفتاری یا گمشدگی سے متعلق شکایات سامنے آئیں۔
کیونکہ کسی بھی تنازع میں انسانی جانوں کے نقصان کی درست تفصیلات محض سیاسی بحث کا موضوع نہیں ہوتیں، بلکہ متاثرہ خاندانوں کے انصاف اور جواب دہی کے مطالبات سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔
چارٹر آف ڈیمانڈ اور تعطل کا شکار مذاکرات
عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک کا بنیادی مقصد چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد ہے۔ دوسری جانب حکومت اور وفاقی نمائندوں کے مؤقف میں اس تحریک، اس کے طریقۂ کار اور اس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے بارے میں اختلافات موجود ہیں۔
گزشتہ مہینوں کے دوران مختلف مذاکراتی وفود عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت کے لیے آئے، لیکن یہ رابطے تاحال کسی ایسے حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے جس سے احتجاج کا خاتمہ ممکن ہوسکتا۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں تو پھر ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟
کیا اختلافات مطالبات کی نوعیت سے متعلق ہیں، ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے، یا حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان اعتماد کا فقدان اس تعطل کی بنیادی وجہ ہے؟
ان سوالات کے جوابات ہی اس تحریک کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
سردیوں کا امتحان اور راولاکوٹ کا دھرنا
اگرچہ مختلف اضلاع میں احتجاجی دھرنے جاری رہے ہیں، لیکن راولاکوٹ اس تحریک کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔
موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا شدید سردی، بارش اور دیگر موسمی مشکلات مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے پر مجبور کرسکتی ہیں؟
عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن اظہر رشید اس خیال کو حکومتی پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، مظاہرین اپنے مطالبات کے حوالے سے پُرعزم ہیں اور ماضی میں بھی سخت موسمی حالات کے باوجود احتجاجی تحریکیں جاری رہی ہیں۔
تاہم موسمِ سرما کا امتحان صرف مظاہرین کے عزم تک محدود نہیں ہوگا۔ طویل دھرنے کے دوران خوراک، رہائش، صحت اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی بھی اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومت کے لیے بھی یہ صورتِ حال ایک امتحان ہے کہ آیا وہ مسلسل احتجاج کے باوجود مذاکرات کا ایسا راستہ نکال سکتی ہے جس سے خطے میں معمولاتِ زندگی بحال ہوں اور فریقین کے درمیان اعتماد پیدا ہوسکے۔
آخر یہ دھرنا کہاں جا کر رکے گا؟
138 دن سے جاری دھرنا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں صرف احتجاج جاری رکھنا یا اسے ختم کروانا مسئلے کا مکمل حل دکھائی نہیں دیتا۔
ایک طرف عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کی منظوری پر اصرار کر رہی ہے، تو دوسری طرف حکومت اور وفاقی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔ شہری ہلاکتوں سے متعلق متضاد دعوے، گرفتاریوں کے معاملات اور ریاستی اقدامات کے بارے میں سوالات بھی اس تنازع کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
اس صورتِ حال میں کسی ممکنہ حل کے لیے ضروری ہوگا کہ فریقین مذاکرات کے لیے قابلِ عمل راستہ اختیار کریں، مطالبات اور ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو واضح کریں اور ہلاکتوں سمیت متنازع واقعات کی شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائیں۔
فی الحال راولاکوٹ سمیت مختلف مقامات پر جاری دھرنے اس سوال کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ کیا یہ تحریک کسی معاہدے پر منتج ہوگی، کیا مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار رہیں گے، یا موسمِ سرما اور بدلتے سیاسی حالات احتجاج کی سمت تبدیل کردیں گے؟
اس کا جواب آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت اور حکومت و عوامی ایکشن کمیٹی کے فیصلوں سے ہی مل سکے گا۔
فی الحال ایک بات واضح ہے: دھرنے کے دن گنے جا رہے ہیں، لیکن اس کے انجام کا تعین ابھی باقی ہے۔
٭٭٭
Share this content:


