پونچھ یونیورسٹی سمیت راولاکوٹ کے تعلیمی ادارے تاحال بند، طلبہ کا حکومتی دعوؤں پر سوال

رپورٹ : فرحان طارق

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 5 اور 6 جون 2026ء کی درمیانی شب سے موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی اور جے اے اے سی (JAAC) کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد خطے میں کریک ڈاؤن اور آپریشن کی راہ ہموار ہونے کے الزامات سامنے آئے۔ 6 جون کو خطے میں تعلیمی اداروں کی بندش اور ان کے استعمال سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔

طلبہ کے مطابق، ضلع راولاکوٹ سمیت خطے کے مختلف علاقوں میں اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی بندش سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعہ پونچھ اور راولاکوٹ کے متعدد تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں، جبکہ دوسری جانب خطے کی وزارتِ اطلاعات اور حکومتی پروپیگنڈا سیل کی جانب سے پونچھ میں تعلیمی ادارے کھلے ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

جامعہ پونچھ کے طلبہ و طالبات سے تعلیمی صورتِ حال جاننے کی کوشش کی۔

جامعہ پونچھ کے شعبۂ تعلیم کے آخری سمسٹر کے طالب علم اسامہ نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ میں گزشتہ پانچ ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ ان کے بقول، راولاکوٹ شہر میں رینجرز، ایف سی اور پولیس کی موجودگی کے باعث معمولاتِ زندگی اور طلبہ کی رہائش کے مسائل پیدا ہوئے ہیں، جبکہ بعض تعلیمی عمارتوں پر سکیورٹی اہلکاروں کے زیرِ استعمال ہونے کے باعث طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسامہ نواز نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں جامعہ پونچھ کی انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں بالخصوص آخری سمسٹر کے طلبہ کو اسلام آباد جا کر انٹرن شپ اور تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے کی ہدایت کی گئی۔

انہوں نے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ پہلے ہی بہتر تعلیم اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس جدوجہد کے دوران متعدد طلبہ جان سے جا چکے ہیں، کئی پابندِ سلاسل ہیں اور ہزاروں طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

اسامہ نواز نے جامعہ انتظامیہ کی حکمتِ عملی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ایسے فیصلوں کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے جامعہ پونچھ سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے ساتھیوں کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اپنے حقوق اور تعلیم کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور انہیں یقین ہے کہ بالآخر کامیابی ان کی ہوگی۔

جامعہ میں زیرِ تعلیم ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ رواں سال فارم ڈی میں داخل ہوئی تھیں، تاہم گزشتہ چار سے پانچ ماہ سے جامعہ بند ہونے کے باعث وہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں۔

طالبہ کا کہنا تھا کہ ایک ایسے دور میں جب دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور تعلیم کو ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، تعلیمی اداروں کی طویل بندش ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تدریسی عمل میں تعطل سے نہ صرف نصاب متاثر ہوتا ہے بلکہ طلبہ کے لیے حاصل کردہ علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لانے کے مواقع بھی محدود ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعہ کی بندش کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے اور انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

دوسری جانب شعبۂ طبیعیات کی طالبہ فریال خالد نے بھی جامعہ کی مسلسل بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے رواں سال سرکاری جامعہ میں داخلہ لیا تھا، لیکن گزشتہ چار سے پانچ ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

طالبات کا کہنا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں میں طویل تعطل طلبہ کے قیمتی وقت اور تعلیمی مستقبل کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے اور تدریسی عمل کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

٭٭٭

Share this content: