تحریر : خواجہ کبیر احمد
ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کے کئی تلخ ابواب میں سے ایک تلخ باب یہ بھی ہے کہ اس کے ہر حصے میں قیادت کا مسئلہ ایک ہی شکل میں سامنے آیا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر ہو، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر ہو یا گلگت بلتستان، ہر جگہ روایتی سیاسی قیادت نے عوام کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ انہیں مسلسل نظرانداز کر کے وہ صرف اپنے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور اپنی آنے والی نسلوں کے اقتدار کو دوام بخشنے میں لگی رہی۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مستقل طرزِ سیاست ہے جس نے تقسیم شدہ ریاست کے ہر خطے کو ایک جیسی محرومی دی۔
ریاست جموں کشمیر کی تقسیم نے یوں تو جغرافیے کو بانٹ دیا، مگر دکھ، محرومی اور بے اختیاری کو مشترک رکھا۔ جنگ بندی لائن کے آر پار رہنے والے لوگ اپنی تاریخ اور ثقافت میں ایک ہیں، اور افسوس کہ اپنی سیاسی بدقسمتی میں بھی ایک ہیں۔ جس طرح ایک گھر کے مختلف کمروں میں ایک ہی بیماری پھیل جائے، اسی طرح قیادت کی یہ بیماری ریاست کے ہر حصے میں جڑ پکڑ چکی ہے۔
مفاد پرست قیادت اور موروثی سیاست کی وجہ سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے اقتدار چند خاندانوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اسی سیاسی وراثت کو سنبھالتی آئی ہے۔ نوجوانوں کو سیاست میں آگے لانے کے بجائے سیاسی گدیاں باپ سے بیٹے اور بیٹی کو منتقل ہوتی رہیں۔ عوام ہر انتخاب میں نئے وعدے سنتے رہے، مگر چہرے اور خاندان وہی رہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں بھی یہی تصویر ہے۔ یہاں بھی چند خاندان نسل در نسل اسمبلی اور وزارتوں پر چھائے رہے اور اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور رشتہ داروں کو میدان میں اتارتے رہے۔ سیاسی جماعتیں بدلتی رہیں، پرچم اور نعرے بدلتے رہے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے گھرانے نہیں بدلے۔ جو شخص اس نظام سے باہر تھا، خواہ کتنا ہی باصلاحیت اور مخلص ہو، اس کے لیے آگے آنے کا راستہ تقریباً بند رہا۔
گلگت بلتستان کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اس خطے کو آج تک آئینی شناخت اور حقیقی خود اختیاری نہیں ملی۔ یہاں مقامی سیاست بیرونی جماعتوں اور بااثر خاندانوں کے تابع رہی۔ فیصلے کہیں اور ہوتے رہے اور مقامی نمائندے ان فیصلوں کے نگہبان بن کر رہ گئے۔ جن لوگوں کو اپنے علاقے کے حقوق کی آواز بننا تھا، وہ اپنی کرسی بچانے کی فکر میں رہے۔
ان تینوں خطوں کی روایتی قیادت میں ایک بات مشترک رہی وہ یہ کہ عوام کے مسائل ان کی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہے۔ روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات، شہری آزادیاں اور سیاسی حقوق ان کے ایجنڈے میں محض تقریروں کی حد تک رہے۔ ان کی پوری توجہ اس پر رہی کہ اقتدار اپنے ہی گھر میں رہے، اس لیے انہوں نے اپنی نسلوں کو باقاعدہ تیار کیا۔ اپنے جانشین بنائے، انہیں سیاسی تربیت دی، انہیں وسائل اور تعلقات دیے، اور آج بھی وہی چہرے اور ان کے وارث میدان میں موجود ہیں۔
جب قیادت کا مقصد صرف اپنے خاندان کی بقا ہو تو عوام کے مسائل خود بخود پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ایک عام شہری اپنی روزمرہ مشکلات میں الجھا رہا اور اس کی نمائندگی کے دعویدار اقتدار کی بساط بچھانے میں مصروف رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اور قیادت کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا، اعتماد ٹوٹتا گیا اور سیاست سے مایوسی نے جگہ بنا لی۔
یہ مایوسی بذاتِ خود ایک خطرناک چیز ہے۔ جب لوگ سمجھنے لگیں کہ ان کی آواز کا کوئی اثر نہیں اور نظام ان کے لیے نہیں بلکہ چند لوگوں کے لیے بنا ہے، تو معاشرہ بے حسی اور انتشار کی طرف بڑھتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام نے کئی دہائیاں اسی کیفیت میں گزاریں۔
دوسری طرف وہ قوتیں تھیں جنہوں نے ریاست کی وحدت کی بحالی، مکمل آزادی، خود مختاری اور خوشحالی کی بات کی۔ انہوں نے ذاتی مفاد کے بجائے ایک نظریے کو اپنایا۔ مقبول بٹ جیسے رہنماؤں کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں، اور ریاست کا حقیقی درد رکھنے والے بے شمار کارکنوں نے قید، جلاوطنی اور مشکلات برداشت کیں۔ ان کی نیت اور ان کی قربانیوں پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کوئی رہنما ایسا نہیں آیا جس نے اپنا جانشین تیار کیا ہو۔ تحریک شخصیات کے گرد گھومتی رہی، اور جب شخصیت منظر سے ہٹی تو خلا پیدا ہو گیا۔ نظریہ زندہ رہا مگر اسے آگے لے جانے والا کوئی منظم ڈھانچہ نہ بن سکا۔ نئی نسل کی تربیت، تنظیمی تسلسل اور اجتماعی قیادت کا تصور مضبوط نہ ہو سکا۔بلکہ زیادہ تر تقسیم در تقسیمکا شکار رہے ۔
یوں ایک عجیب المیہ جنم لیتا ہے۔ جن کے پاس ریاست کا حقیقی درد تھا، وہ قیادت کی منتقلی میں ناکام رہے۔ اور جنہوں نے قیادت منتقل کی اور اپنی نسلوں کو اقتدار کے لیے تیار کیا، ان کے ہاں عوام کا درد نہ تھا۔ ایک طرف تسلسل تھا مگر خلوص نہیں، دوسری طرف خلوص تھا مگر تسلسل نہیں۔ یہ فرق ہماری سیاسی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ہے، اور اسی خلا میں عوام کی کئی نسلیں بے سمت رہیں۔
اس پس منظر میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں بنیادی عوامی حقوق کی پُرامن تحریک ایک نیا باب ہے۔ یہ تحریک کسی خاندان، کسی روایتی جماعت یا کسی بڑی شخصیت کی پیداوار نہیں، بلکہ عوام کے اپنے مسائل اور اپنے شعور سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کی بنیاد وہی بنیادی حقوق ہیں جن سے عوام کو برسوں محروم رکھا گیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے شعوری طور پر جانشین تیار کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا، لیکن اس نے عوام کو اپنے حقوق کا ایسا شعور دیا ہے کہ قیادت خود بخود ابھر رہی ہے۔ یہ بات بظاہر معمولی لگتی ہے مگر اپنی گہرائی میں بہت اہم ہے۔ قیادت تیار کرنے کا روایتی طریقہ یہ تھا کہ چند لوگ منتخب کیے جائیں، انہیں تربیت دی جائے اور اوپر سے مسلط کیا جائے۔ اس تحریک میں قیادت نیچے سے اوپر کی طرف اٹھ رہی ہے، یعنی عوام کے درمیان سے، عوام کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے۔
نوجوان اور طلبہ، جو کل تک تماشائی تھے، آج خود قیادت کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ وہ احتجاج، مکالمے اور تنظیم سازی کے عمل سے گزر کر سیکھ رہے ہیں کہ اجتماعی جدوجہد کیسے کی جاتی ہے، اپنے حقوق کا مقدمہ کیسے پیش کیا جاتا ہے اور عوام کا اعتماد کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ قیادت کسی خاندانی وراثت یا سرپرستی سے نہیں بلکہ عوامی جدوجہد اور اجتماعی شعور سے جنم لے رہی ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یوں یہ تحریک وہ خلا پُر کر رہی ہے جو روایتی قیادت نے کبھی پُر کرنے کی کوشش نہیں کی اور جو آزادی پسند قیادت پُر نہ کر سکی۔ یہ دونوں کی کمزوریوں کا جواب بھی ہے، اس میں عوام کا درد بھی ہے اور قیادت کی منتقلی کا عمل بھی۔
اس تحریک کی ایک نمایاں خوبی اس کا پُرامن ہونا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں تشدد اور بے یقینی نے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، پُرامن اور آئینی دائرے میں رہ کر عوامی حقوق کا مطالبہ کرنا بڑی سیاسی پختگی کی علامت ہے۔ اس سے تحریک کو اخلاقی قوت ملتی ہے اور دنیا کے سامنے اس کا مقدمہ مضبوط ہوتا ہے۔ پُرامن جدوجہد میں زیادہ لوگ شریک ہو سکتے ہیں، خواتین، بزرگ اور نوجوان سب، اور یہی وسیع شرکت قیادت کے ابھرنے کے لیے زرخیز زمین ہے۔
اگر ریاست کے تمام حصوں کے عوام اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ مسائل کا حل کسی ایک خاندان یا شخصیت میں نہیں بلکہ اجتماعی شعور اور اجتماعی قیادت میں ہے، تو یہ تحریک خطوں اور سرحدوں کی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک نئی سیاسی روایت کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تحریک اپنے اندر جمہوری روایات کو مضبوط کرے، فیصلہ سازی کو شفاف رکھے اور نئی قیادت کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریک وہی غلطی نہ دہرائے جو ماضی میں ہوئی۔ شخصیات پر انحصار کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچہ بنایا جائے، ایسا ڈھانچہ جو کسی فرد کے منظر سے ہٹ جانے پر بھی قائم رہے۔ قیادت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا کوئی نعرہ نہیں، بقا کی شرط ہے۔
اسی طرح ریاست کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے اور یکجہتی کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ جب بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ ایک دوسرے کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھیں گے، تو تقسیم کی دیواریں کمزور ہوں گی اور ایک مشترکہ شعور جنم لے گا۔
ریاست جموں کشمیر کے عوام نے بہت کچھ سہا ہے۔ انہوں نے اپنی قیادت سے وفا کی امید رکھی اور بدلے میں بے اعتنائی پائی۔ انہوں نے نظریاتی رہنماؤں کی قربانیاں دیکھیں اور ان کے بعد خلا دیکھا۔ اب پہلی بار ایک ایسی تحریک سامنے ہے جس میں عوام خود اپنے مستقبل کے معمار بن رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جو قیادت عوام کے درمیان سے ابھرتی ہے وہی پائیدار ہوتی ہے۔
اگر یہ شعور قائم رہا اور نئی نسل نے اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے اٹھایا، تو وہ دن دور نہیں جب ریاست کے ہر حصے میں قیادت موروثی گدیوں کے بجائے عوامی اعتماد کی بنیاد پر کھڑی ہوگی۔اور یہ ذمہ داری سب سے بڑھ کر ریاست کے نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے، جو اس دھرتی کے مالک بھی ہیں، وارث بھی اور پاسبان بھی۔
مستقبل کی اس پوری بحث کا مرکز نوجوان ہیں۔ اس لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ریاست کے نوجوانوں کو براہِ راست مخاطب کیا جائے اور ان کی توجہ اس ذمہ داری کی طرف دلائی جائے جو تاریخ نے ان کے کندھوں پر رکھی ہے۔
نوجوانوں کو یہ مکمل احساس دیلانا ہو گا کہ آپ ہی اس ریاست کا مستقبل ہیں۔ آپ کو آگے بڑھنا ہے، خود سیکھنا ہے اور خود قیادت سنبھالنی ہے۔ قیادت کوئی ایسا تحفہ نہیں جو آپ کو خاندانی وراثت یا کسی کی سرپرستی سے مل جائے۔ یہ علم، شعور، کردار اور جدوجہد سے حاصل ہوتی ہے۔ روایتی قیادت نے اپنے بچوں کو اقتدار کے لیے تیار کیا، آپ کو خود کو عوام کی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے۔
نوجوانو ! آپ اس دھرتی کے مالک بھی ہیں، وارث بھی ہیں اور پاسبان بھی۔ یہ زمین، اس کے وسائل، اس کی تاریخ اور اس کا مستقبل آپ کی امانت ہیں، اور آپ ہی وہ ہیں جو اس کی صحیح معنوں میں رکھوالی کر سکتے ہیں۔ جو نسلیں آپ سے پہلے گزریں، ان میں سے کچھ نے اس کی قیمت قربانیوں سے چکائی اور کچھ نے اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کس راستے کو اپنائیں گے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ تعلیم اور مطالعے کو اپنا ہتھیار بنائیں، اپنی تاریخ اور حقوق کو خود پڑھیں اور سمجھیں، اجتماعی جدوجہد اور تنظیم سازی کا ہنر سیکھیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور مکالمے سے مسائل حل کرنا سیکھیں، اور ذاتی شہرت اور مفاد کے بجائے اجتماعی مقصد کو ترجیح دیں۔
جس دن ریاست کا وارث نوجوان یہ سمجھ لے گا کہ اس کا مستقبل کسی اور کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، اسی دن قیادت کا بحران ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔
٭٭٭
Share this content:


