بلوچستان کے ساحلی اور سٹریٹیجک شہر گوادر میں بلوچ مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے ’آپریشن الماس‘ کے نام سے ایک بڑے عسکری معرکے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں عسکری تنصیبات، چیک پوسٹوں اور اہم شاہراہوں پر شدید جھڑپوں اور دھماکوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق، تنظیم کے سرمچاروں نے 22 اکتوبر 2026 کو گوادر زیرو پوائنٹ پر قائم فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے مرکزی کیمپ کو ایک وسیع اور مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں بی ایل ایف کی خصوصی ’سدو آپریشن بٹالین‘ (SOB) اور دیگر یونٹس کے فدائین و سرمچار حصہ لے رہے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے اس آپریشن کا ایک باضابطہ پوسٹر بھی جاری کیا گیا ہے۔
آپریشن کے دوران بی ایل ایف کی جانب سے میدانِ جنگ سے متعدد آڈیو ریکارڈنگز اور ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔
تنظیم کے مطابق، ایک فدائی سرمچار مجاہد مہر عرف ’زامران‘ (سگار زامرانی) نے بارود سے بھری گاڑی عسکری کیمپ سے ٹکرا کر یہ حملہ کیا، جس کے بعد کیمپ کے اندر اور اطراف میں شدید دھماکے اور فائرنگ دیکھی گئی۔
بی ایل ایف نے آپریشن میں حصہ لینے والی ایک فدائی خاتون ’الماس‘ کی آڈیو بھی جاری کی ہے، جن کے نام پر اس آپریشن کا نام رکھا گیا ہے۔ آڈیو میں وہ آپریشن کمانڈر کو بتاتی ہیں کہ دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، اندھیرا چھا چکا ہے اور بلوچ قوم کو اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا چاہིے۔
جاری کردہ دیگر آڈیوز میں سرمچار اپنے آپریشنل کمانڈر کو بتا رہے ہیں کہ وہ تمام محفوظ ہیں، جبکہ عسکری کیمپ پر بی ایل ایف کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ آڈیوز کے پس منظر میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھیسنی جا سکتی ہیں۔
بی ایل ایف کے مطابق، سرمچاروں نے کارروائیوں کے دوران مزانی پولیس تھانے اور گبد کراس پر قائم پولیس چوکی کا کنٹرول سنبھال کر وہاں موجود عسکری و سرکاری اسلحہ اپنے تحویل میں لے لیا ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے ایک کیپٹن اور اسپیشل سروسز گروپ (SSG) کے متعدد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ گبد کے مقام پر ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنا کر گاڑی تباہ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات پر ٹرانس گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔
گوادر میں مسلسل دھماکوں اور فائرنگ کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جاری صورتحال کے باعث مختصر ہونے کے بعد، صوبائی وزرا اور اراکینِ اسمبلی نے پریس گیلری کا رخ کر کے صحافیوں سے زمینی حقائق اور تازہ ترین اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
خبر کی اشاعت تک پاکستان کی عسکری قیادت، حکومتِ پاکستان یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گوادر کے اندرونی حصوں میں کنٹرول کی تبدیلی، کیمپوں پر قبضے یا جانی نقصانات سے متعلق کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید جاری نہیں کی گئی ہے، تاہم شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے سخت ناکہ بندی کی گئی ہے۔
Share this content:


