ریاست جموں کشمیر 22 اکتوبر 1947: ایک سیاہ دن، ایک نہ ختم ہونے والا انسانی المیہ!

تحریر: حبیب رحمان

22 اکتوبر 1947ء کو غیر ملکی حملہ آوروں نے ہمارے خطے میں معصوم، بے گناہ اور نہتے انسانوں کا قتلِ عام کیا، ان کی املاک لوٹیں، خواتین کی عصمت دری کی، انہیں اغوا کیا اور لاشوں تک کی بے حرمتی کی۔ یہ تمام مظالم مذہب اور عقیدے کے نام پر ڈھائے گئے۔

پھر 6 نومبر 1947ء کو بھی ایک دوسرے عقیدے کے نام پر اسی انسانی المیے کو دہرایا گیا۔ تقسیم کے ان خونی واقعات نے قتل، بے بسی، ہجرت اور ذلت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ قاتل معتبر ٹھہرے اور مظلوم مجرم بنا دیے گئے۔

ان مظالم کی آہیں اور سسکیاں آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑوں میں برسوں سے گونج رہی تھیں۔ آج انہی پہاڑوں نے اس بھٹکتی ہوئی آواز کو ایک نئی زبان دے دی ہے۔ یہ زبان مزاحمت کی ہے، انصاف کی ہے اور اپنے حقِ خود ارادیت کی ہے۔

تاریخ کا المیہ دیکھیے کہ 1947ء میں جس حملے نے اس خطے کو لہولہان کیا، آج اسی تاریخی بندوبست کے وارثوں کے ہاتھوں اس خطے کی نئی نسل قتل ہو رہی ہے۔

تاریخ کا سبق واضح ہے: مذہب، قومیت یا ریاست کے نام پر ہونے والا ظلم کبھی انصاف نہیں بن سکتا۔ مظلوم کی آواز کو دبایا تو جا سکتا ہے، مگر اس کے حق کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا سکتا۔

آج آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑ گواہ ہیں: تاریخ کا حساب ابھی باقی ہے، اور انصاف کی یہ صدا اب خاموش نہیں ہوگی۔

٭٭٭

Share this content: