بلوچستان میں موجود بلوچ تحریک آزادی گزشتہ چند دہائیوں میں ایک اہم سیاسی و عسکری مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ابتدائی دور میں یہ تحریک زیادہ تر گوریلا مزاحمت کی شکل میں تھی، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے فکری اور عوامی پہلو واضح ہونے لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تحریک مستقبل میں ایک مسلح عوامی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے؟
مسلح عوامی جنگ کیا ہے؟:
مسلح عوامی جنگ وہ مرحلہ ہے جہاں عوام نہ صرف ہمدرد بلکہ براہِ راست شریک ہوںمزاحمت صرف بندوق یا ہتھیار تک محدود نہ ہوسیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر عوامی شرکت موجود ہو۔ریاست کے لیے مسئلہ صرف سیکیورٹی نہیں، بلکہ حکمرانی کا سوال بن جائےیہ اصطلاح تاریخی طور پر ماؤزے تنگ کی تحریروں میں مستعمل ہے، جہاں عوامی اور مسلح جدوجہد کا امتزاج کامیابی کی شرط سمجھا جاتا ہے۔
بلوچ تحریک میں مسلح عوامی جنگ کے امکانات:
فکری اور عوامی ہمدردی ،بلوچ تحریک نے نوجوانوں، طلبہ اور شہری طبقات میں ریاستی بیانیے پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ ہمدردی اور شعور مسلح عوامی جنگ کی پہلی شرط ہے۔عوامی مزاحمت کے کچھ مظاہر، جیسے طلبہ تحریکیں، مقامی احتجاج اور سماجی احتجاجات، اس امکان کی بنیاد رکھتے ہیں۔
تنظیم اور قیادت:
موجودہ تحریک میں قیادت کا منتخب یا منظم ڈھانچہ ابھی مکمل نہیں ہے۔مسلح عوامی جنگ کی کامیابی کے لیے سیاسی قیادت اور عوامی تنظیم لازمی ہے۔اگر گوریلا مزاحمت اور سیاسی قیادت میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو امکان بڑھ جاتا ہے۔
عوامی مسائل سے تعلق بلوچ عوام کے بنیادی مسائل (زمین، روزگار، تعلیم) ابھی تحریک کے مرکزی بیانیے میں پوری طرح شامل نہیں ہیں۔مسلح عوامی جنگ میں عوامی حصہ داری اسی وقت بڑھتی ہے جب جدوجہد ان کے روزمرہ مسائل سے جڑ جائے۔
ریاستی دباؤ اور خوف:
خوف، سیکیورٹی اور ریاستی دباؤ عوام کی فعال شمولیت کو محدود کرتا ہے۔مسلح عوامی جنگ میں عوام کا اعتماد اور تحفظ انتہائی اہم ہوتا ہے۔
رکاوٹیں اور چیلنجز:
وسیع عوامی شرکت کی کمی دیہی علاقوں اور مزدور طبقے میں تحریک محدود اثر رکھتی ہے۔
سیاسی پروگرام کی غیر واضحیت عوام کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کی شرکت سے حقیقی تبدیلی آئے گی۔
انسداد تشدد اور قیادت کا عدم توازن جب مسلح کارروائیاں آزادانہ ہوں مگر قیادت واضح نہ ہو، عوامی جنگ میں تبدیلی مشکل ہو جاتی ہے۔
نتیجہ:
فکری بنیاد اور عوامی ہمدردی موجود ہیں، جو مسلح عوامی جنگ کے امکانات پیدا کرتی ہیں۔مگر ابھی یہ مرحلہ مکمل نہیں ہوا۔مستقبل میں یہ امکان تب مضبوط ہو گا جب عوامی تنظیم اور سیاسی قیادت مضبوط ہو جائےروزمرہ مسائل تحریک میں شامل ہوں عوام خوف کے بجائے فعال حصہ داری اختیار کریں۔
خلاصہ یہ ہے کہ بلوچ تحریک کی گوریلا مزاحمت میں مسلح عوامی جنگ میں تبدیلی کا بیج موجود ہے، مگر وہ ابھی مکمل طور پر پھوٹا نہیں۔
٭٭٭
Share this content:


