بلوچ سرداروں کے بعد اب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی قیادتیں بھی دھیرے دھیرے پس منظر میں جاتی دکھائی دینے لگی ہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک پرانے باب کا نیا ورق ہے۔
یوں تو ریاستِ جموں و کشمیر اور ریاستِ قلات عمر کے اعتبار سے جڑواں بھائی تھیں، مگر جیسے جیسے یہ بڑے ہوتے گئے، ان کی تقدیر میں لکھے واقعات بھی حیران کن حد تک ایک دوسرے سے مشابہ دکھائی دینے لگے۔
تلک دیواشر کی کتاب Pakistan: The Balochistan Conundrum اس داستان کا ایک اہم حوالہ ہے۔ مصنف کے مطابق ریاستِ قلات کی حیثیت ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے بالکل مختلف تھی۔ 1876 کے معاہدے کے تحت برطانوی حکومت نے قلات کو ایک آزاد ریاست تسلیم کیا تھا۔ اسی منفرد حیثیت کے باعث خان آف قلات نے کبھی دہلی میں چیمبر آف پرنسز میں شرکت نہیں کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس دور میں خان آف قلات کے قانونی مشیر خود قائداعظم محمد علی جناح تھے۔
1946 میں کابینہ مشن کے سامنے قلات کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے جناح نے بھرپور دلائل دیے کہ انگریزوں کے انخلا کے بعد قلات کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے اور کوئٹہ و نوشکی جیسے علاقے واپس قلات کے حوالے کیے جائیں۔
چار اگست 1947 کو دہلی میں ایک اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ طے پایا، جس پر قائداعظم، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور خان آف قلات کے دستخط ثبت تھے۔ اس معاہدے کے مطابق طے ہوا کہ فی الحال حالات جوں کے توں رہیں گے اور مستقبل کے فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔
گیارہ اگست 1947 کو جاری ہونے والے اعلامیے میں حکومتِ پاکستان نے قلات کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کیایہ دستاویز آج بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے، جس پر محمد علی جناح اور لیاقت علی خان دونوں کے دستخط ہیں۔ بارہ اگست کو خان آف قلات نے ریاست کی مکمل آزادی کا اعلان کر دیا، اور قلات کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے پاکستان سے الحاق کی تجویز مسترد کر دی۔ اسی اجلاس میں غوث بخش بزنجو کی وہ تاریخی تقریر ہوئی جس میں انہوں نے کہا:
“ہم پاکستان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔”
مگر 27 مارچ 1948 کو آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والی ایک خبر نے پورا منظرنامہ بدل دیا۔ خبر کے مطابق قلات بھارت کے ساتھ الحاق کا خواہاں تھا۔ اسی روز پاکستانی فوج نے قلات کے ساحلی علاقوں پر بزورِ طاقت کنٹرول سنبھال لیا اور پیش قدمی شروع ہو گئی۔ خان آف قلات نے ہتھیار ڈال دیے اور الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے۔
یوں ایک طرف 227 دن کی آزادی دفن ہوئی، تو دوسری طرف بلوچ عوام کے لیے مشکلات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ بظاہر ریاستِ قلات ختم ہو گئی، مگر مرتے مرتے وہ ایک ایسی قوم کو جنم دے گئی جو آج بھی اپنے وجود کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
اس پورے عمل میں پاکستانی مقتدرہ نے بلوچ سرداروں کو تقویت دی بالکل اسی طرح جیسے پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں مقامی کٹھ پتلی قیادتوں کو پروان چڑھایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بلوچ سردار اور کشمیری سیاستدان اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتے رہے، جبکہ عوام کے حصے میں غربت، محرومی اور مفلسی ہی آئی۔ اقتدار باپ سے بیٹے اور پھر پوتے تک منتقل ہوتا رہا، قلعوں کی دیواریں بلند ہوتی گئیں اور غربت کے مینار اور بھی اونچے ہو گئے۔
قومی میڈیا نے دونوں خطوں کے مسائل سے آنکھیں چرا لیں، اور مقتدرہ و مقامی اشرافیہ کے گھڑے ہوئے بیانیے کو دہراتا رہا
“چند شرپسند عناصر ہیں، باقی سب ٹھیک ہے۔”
اسی فضا میں بلوچستان میں مسلح مزاحمت نے جنم لیا۔ پاکستانی مقتدرہ نے اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ قرار دیا، جبکہ مقامی بلوچ اسے اپنی آزادی کی جدوجہد کہتے رہے۔ دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں عسکری تحریک ابھری، جس کا الزام بھارت پاکستان پر عائد کرتا رہا، مگر قوم پرست اسے ایک خالص عوامی مزاحمت قرار دیتے رہے۔
یہاں ایک تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ قوم پرست رہنما امان اللہ خان اپنی کتاب جہدِ مسلسل میں آئی ایس آئی سے اسلحہ لینے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ان دونوں خطوں کی عسکری تحریکوں نے جہاں مقامی معیشت کو نقصان پہنچایا، وہیں غیر مقامی افراد کو نشانہ بنا کر اپنے مؤقف کو بھی کمزور کیا۔
مگر اب منظر بدل رہا ہے۔
بلوچستان ہو یا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیردونوں جگہ عوام سرداروں کو پس منظر میں دھکیل رہے ہیں۔ لوگ اپنے وسائل پر اپنا حق مانگنے لگے ہیں، حقوق کی زبان بولی جا رہی ہے، اور خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں نہ صرف مقتدرہ، بلکہ مقامی سرداروں اور روایتی قیادتوں کو بھی آنے والے برسوں میں سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شاید اب تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہےاور اس بار کہانی کا مرکزی کردار سردار نہیں، عوام ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


