الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج، کوئٹہ سے پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں کے 200 کارکن گرفتار

اتوار کے روز پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے 200 کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

ان کارکنوں کو کوئٹہ اور اس کے نواحی علاقوں سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بی بی سی سے گفتگو میں ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے متعدد شہروں میں اتوار کے روز شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال رہی جس کی وجہ سے شہر میں تمام اہم تجارتی مراکز بند رہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو کوئٹہ شہر میں کاروباری مراکز کھلے رہتے ہیں کیونکہ یہاں کے تاجر جمعے کے روز چھٹی کرتے ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں کوئٹہ اور دوسرے شہروں کے درمیان بعض شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ اہم شاہرایوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔

ان کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

گرفتار ہونے والے کارکنوں کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) اور تحریک انصاف سے ہے، تاہم ان میں اکثریت پی کے میپ کے کارکنوں کی ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ شہر میں ٹریفک معمول سے کم رہی، کوئٹہ اور شمالی علاقوں کے درمیان قومی شاہراہوں پر بھی ٹریفک معطل رہی۔

دریں اثنا کوئٹہ شہر میں دو پہر دو بجے کے قریب موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کیا گیا تاہم رات کو ساڑھے نو بجے اسے بحال کردیا گیا۔

Share this content: