بلوچستان میں2 سگے بھائیوں سمیت 12 افراد کی ہلاکت

پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعات میں دو سگے بھائیوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان میں سے پانچ افراد کی لاشیں ضلع ڈیرہ بگٹی شمالی کے علاقے سوئی سے ملیں جبکہ پانچ افراد کی لاشوں کو پنجگور شہر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ان میں سے دو افراد کی لاشیں ضلع بارکھان سے ملیں جن کو نامعلوم افراد نے گولی مارکر ہلاک کیا تھا۔

بارکھان پولیس کے ایس ایچ او محمد اسلم نے اس کی تصدیق کی تاہم انھوں نے بتایا کہ دونوں افراد کی ہلاکت کا واقعہ ان کے تھانے کی حدود میں پیش نہیں آیا۔

تاہم کسی اور علاقے میں دو افراد کی لاشوں کی اطلاع ملنے پر ان کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس بھیجوائی گئی۔

انھوں نے کہا کہ مارے جانے والے دونوں افراد سگے بھائی تھے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ دونوں ضلع بارکھان کے علاقے بالا ڈاکہ میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کے مارے جانے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔

ضلع کوہلو کے علاقے گرسنی کے پولیس کے ایس ایچ او نہال خان نے بتایا کہ مارے جانے والے دونوں افراد کا تعلق کوہلو سے تھا لیکن ان کی ہلاکت ضلع بارکھان میں ہوئی۔

ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے علاقے سے پانچ افراد کی لاشیں سوئی ٹاؤن سے چار پانچ کلومیٹر دور سے ملیں جن کا تعلق ڈیرہ بگٹی سے تھا۔

پولیس کے ایک اہلکار امیر حمزہ نے سوئی ٹائون کے قریب ان پانچ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔ انھوں نے اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

ادھر ایران سے متصل ضلع پنجگور کے ہیڈ کوارٹر پنجگور شہر میں پاکستانی فورسز نے پانچ افراد کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیں۔

پنجگور سٹی پولیس کے ایس ایچ او توفیق احمد نے پانچ افراد کی لاشوں کی ہسپتال منتقلی کی تصدیق کی تاہم انھوں نے ان کے مارے جانے کے محرک کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

ایک اور پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارے جانے والے پانچ افراد میں سے تاحال ایک کی شناخت ہوئی ہے۔

Share this content: