مذاکرات کے نام پر افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، لانگ مارچ کی کال برقرار ہے، عمر نذیر

تراڑکھل /کاشگل نیوز

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار عمر نذیر کشمیری نے کہا ہے کہ مذاکرات کے نام پر افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، جبکہ حکمرانوں کی جانب سے کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کی کال بدستور برقرار ہے۔

تراڑکھل میں خطاب کرتے ہوئے سردار عمر نذیر کشمیری کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو حکمران اسے ان کی کمزوری سمجھتے ہیں، حالانکہ مذاکرات کی بات کرنا مسائل کے حل کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں کے بجائے عملی پیش رفت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے گرفتار افراد اور شہداء کے جسدِ خاکی کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں کسی شخص کی گرفتاری کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ شہادت کی صورت میں جسدِ خاکی اہلِ خانہ کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں شہداء کے جسدِ خاکی تاحال حکام کے قبضے میں ہیں اور گرفتار افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔

عمر نذیر کشمیری نے بالخصوص شوکت نواز میر سمیت زیرِ حراست افراد کو عدالتوں میں پیش نہ کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسیران کو قانونی تقاضوں کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ لانگ مارچ کی کال واپس نہیں لی گئی اور عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

Share this content: