امریکی فوج کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی کا انکشاف

امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے آرمی چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج نے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے دو ماہ قبل، دسمبر کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ فوج کو میزائل دفاعی نظاموں کے لیے درکار ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور یہ صورتحال مزید پانچ برس تک برقرار رہ سکتی ہے۔

سی بی ایس نیوز کو حکام نے بتایا ہے کہ جنرل جارج کا یہ جائزہ پینٹاگون کے گلوبل فورس مینجمنٹ ایلوکیشن پلان میں شامل تھا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ وزیرِ دفاع کی منظوری سے تیار کیا جانے والا سالانہ منصوبہ ہے جس میں دنیا بھر میں فوجی دستوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی کا تعین کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اس معاملے سے واقف متعدد امریکی حکام کے مطابق جنرل جارج کو اپریل میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب ایران کے ساتھ جنگ جاری تھی۔ جنرل جارج نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) بیٹریوں اور پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر 2030 تک سٹریٹیجک اعتبار سے کم سطح پر رہیں گے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ جنرل رینڈی جارج کا یہ جائزہ محکمۂ دفاع کے مالی سال 2027 کے منصوبے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ سے پہلے لکھا گیا تھا، جو اب ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔

سی بی ایس نیوز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے امریکی حکام(جنھیں عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں) نے کہا کہ یہ صورتحال 2022 میں روس کے حملے کے بعد یوکرین کو پیٹریاٹ نظاموں کی فراہمی، اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے استعمال اور دفاعی صنعت کی محدود پیداواری صلاحیت کے باعث پیدا ہوئی۔

سکیورٹی خدشات کے باعث سی بی ایس نیوز نے امریکی حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے درست فیصدی اعداد و شمار شائع نہیں کیے، جبکہ جنرل جارج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے پاس بعض حملہ آور ہتھیاروں، جیسے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن اور سمال ڈائیمیٹر بم، کے بڑے ذخائر موجود ہیں، تاہم تھاڈ بیٹریوں اور پیٹریاٹ میزائل نظاموں میں استعمال ہونے والے میزائل دفاعی ہتھیار سٹریٹیجک اعتبار سے کم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

Share this content: