پشاور/کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ
باجوڑ سے منتخب رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نثار باز خان نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے جواب میں وزیرستان میں کاپر کی کان کنی، معدنی لیزوں اور صوبائی وسائل سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے معدنیات کے شعبے میں شفاف احتساب اور مکمل آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ احتساب ضرور ہونا چاہیے، تاہم اسے سیاسی وابستگی کے بجائے ثبوت، قانون اور حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔
نثار باز خان کے مطابق وہ گزشتہ دو سال سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معدنیات کے رکن ہیں اور محکمہ معدنیات خیبر پختونخوا کا ریکارڈ کمیٹی میں زیرِ بحث آتا رہا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ محکمہ معدنیات نے بڑے پیمانے کی چار لیزیں جاری کی ہیں، جن میں سے ایک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے پاس ہے، جہاں وزیرستان میں تانبے کی کان کنی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ لیز کا رقبہ تقریباً 30 مربع کلومیٹر، یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو ان کے بقول 37 عام لیزوں کے مساوی بنتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی لیز ہولڈرز کو عموماً 50 سے 500 ایکڑ تک رقبہ دیا جاتا ہے۔
نثار باز خان نے محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2016 سے 2024 تک وزیرستان کے مذکورہ منصوبے سے 987,000 ٹن تانبا نکالا گیا، جبکہ 2025 اور 2026 کا ریکارڈ اس میں شامل نہیں۔
ان کے مطابق ایف ڈبلیو او نے اوپن بولی کے ذریعے 10 لاکھ ٹن تانبے کی فروخت اور برآمد بھی کی۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر رائلٹی کی ادائیگیوں اور مجموعی آمدن کا شفاف آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر نکالے گئے تانبے کی مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 6.9 کھرب روپے لگایا جائے تو خیبر پختونخوا کے معدنیات کے قانون کے تحت پانچ فیصد رائلٹی تقریباً 34.5 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ ان کے دعوے کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قائمہ کمیٹی میں سوالات اٹھائے گئے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے مکمل حساب کتاب فراہم نہیں کیا گیا۔ ان دعوؤں اور مالی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
نثار باز خان نے کہا کہ صوبے میں چار ہزار سے زائد چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے بتائی جاتی ہے، جبکہ ان کے بقول صرف وزیرستان کاپر منصوبے کی ممکنہ رائلٹی ہی اربوں روپے بنتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر احتساب مقصود ہے تو سب سے پہلے بڑے معدنی منصوبوں کی آمدن، پیداوار اور رائلٹی کا شفاف آڈٹ کیوں نہیں کیا جاتا؟
انہوں نے مزید کہا کہ معدنی لیزوں کے اجرا میں اگر بے ضابطگیاں، اقرباپروری، رشوت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد موجود ہیں تو ان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں، تاہم تمام لیز ہولڈرز کو کسی ایک سیاسی جماعت سے منسلک کرکے ان کے روزگار کو خطرے میں ڈالنا ناانصافی ہوگی۔
نثار باز خان کے مطابق محکمہ معدنیات نے 2017 میں آن لائن درخواستوں کا نظام متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے لیز کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے ہزاروں زیرِ التوا درخواستوں کی نشاندہی کی، جس کے بعد نیب نے اکتوبر 2024 میں معاملے کا جائزہ لیا اور زیرِ التوا درخواستوں کو نمٹانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق قانونی تقاضے پورے کرنے والے درخواست گزاروں کو بعد ازاں لیزیں جاری کی گئیں اور اس حوالے سے کمیٹی میں رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
انہوں نے 2025 میں معدنیات کے قانون میں مجوزہ تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے معدنیات ایکٹ 2017 میں ترمیم کی کوشش کی گئی تھی، جس کی انہوں نے اسمبلی میں مخالفت کی۔ ان کے بقول عوامی نیشنل پارٹی سمیت مختلف سیاسی حلقوں کی مخالفت اور جرگوں، سیمینارز اور آل پارٹیز کانفرنسوں کے بعد مجوزہ بل کو آگے بڑھانے کا عمل روک دیا گیا۔
نثار باز خان نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کی ناقص حکمرانی، کرپشن اور اقرباپروری کے معاملات پر اختلاف رکھتے ہیں، تاہم ان کے مطابق ریاستی سطح پر سامنے آنے والے بیانات اور الزامات کو مکمل ریکارڈ اور شواہد کے ساتھ پرکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ معدنی لیزوں کے معاملے کو بنیاد بنا کر صوبے کے وسائل پر بڑے پیمانے کے لائسنسوں کے ذریعے قبضے کی کوشش کی گئی تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل صوبے کے عوام کی مشترکہ میراث ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سیاسی و قانونی جدوجہد کی جائے گی۔
نثار باز خان نے واضح کیا کہ وہ احتساب کے مخالف نہیں بلکہ اس کے حامی ہیں، تاہم ان کے بقول احتساب شفاف، غیر جانب دار اور بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں بدعنوانی یا قانون شکنی ثابت ہو، وہاں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، لیکن کسی بھی کارروائی کو صوبے کے وسائل پر قبضے کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔
Share this content:


