پشتون قوم پرست رہنما علی وزیر کو دادو جیل سے سخت پولیس پہرے میں ایڈیشنل سیشن جج سید احسان علی شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ایف آئی آر نمبر 40/2026 میں ان کے وکیل امداد حیدر سولنگی کے دلائل سننے کے بعد انہیں باعزت بری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے 16 مارچ 2026ء کو علی وزیر کی رہائی کا حکم دیا تھا، تاہم اسی روز انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں دادو کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں نامزد کیا گیا۔
آج ایڈیشنل سیشن جج دادو کی عدالت میں ایف آئی آر نمبر 40/2026 کی سماعت ہوئی، جس کے دوران علی وزیر کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے اپنے دلائل پیش کیے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے علی وزیر کو مقدمے سے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا۔
علی وزیر کی بریت کو ان کے حامیوں نے انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو مقدمات کے ذریعے دبانے کے بجائے قانونی اور جمہوری طریقے سے اختلافات کا سامنا کرنا چاہیے۔
Share this content:


