پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہا ہے، امریکی میڈیا

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس، جو امریکہ میں بی بی سی کا شراکت دار ادارہ ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار اور ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بدھ کے روز بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے جاری علاقائی خطرات اور ایران کی براہِ راست دھمکیوں کے پیشِ نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے بدھ کے روز سب سے پہلے یہ خبر نشر کی تھی۔

ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے سی بی ایس سے کہا کہ امریکی فوج معمول کے مطابق اپنے اہلکاروں اور سازوسامان کی نقل و حرکت کرتی رہتی ہے تاکہ مختلف مشنز کے لیے آپریشنل تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔

انھوں نے کہا: ’آپریشنل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم ایسی نقل و حرکت کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔ امریکی افواج خطے بھر میں امریکی اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے بدستور چوکس اور تیار ہیں۔‘

دوسری جانب امریکی وزارتِ خارجہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت سے منسلک خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

سی بی ایس نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں واقع بعض امریکی سفارت خانوں نے بھی ’محدود سرگرمیوں‘ کی حالت میں اپنے عملے کی تعداد میں تبدیلیاں کی ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے اگست میں، ایران کے ساتھ کشیدگی اور تنازع میں شدت آنے کے دوران، "محدود سرگرمیوں” کی اس پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس طریقۂ کار کے تحت سفارت خانے اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کیے بغیر عملے کی تعداد اور فراہم کی جانے والی خدمات کو محدود کر سکتے ہیں۔

Share this content: