خلیج کے خطے میں حوثی ڈرون حملوں اور بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی عرب میں ایئرپورٹ اور اہم تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں غیر ملکی کارکنوں سمیت 3 افراد ہلاک اور پاکستانی شہری سمیت متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
بدھ کے روز سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایئرپورٹ پر ہونے والے اس حملے میں 1 غیر ملکی شہری ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت شدید بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ توانائی اور سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، مشرقی صوبے میں قائم آرامکو کی اہم شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کے لیے آنے والے ایک ڈرون کو ایئر ڈیفنس سسٹم نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تاہم ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں فلپائن اور نیپال سے تعلق رکھنے والے 2 غیر ملکی ہلاک جبکہ ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری زخمی ہو گئے۔ عرب اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں مشرقی علاقے میں مجموعی طور پر 5 ڈرون گرائے گئے ہیں۔
خلیجی خطے میں حوثیوں کے ساتھ ممکنہ لڑائی اور صورتحال کی ابتری کے پیشِ نظر امریکی وزارتِ خارجہ نے ریاض سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں بھی امریکی سفارت کاروں کے خاندانوں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
خلیج میں ان ڈرون حملوں اور سفارتی سرگرمیوں کے بعد خطے میں مزید بڑی جنگ اور توانائی کی عالمی منڈی میں خلل پڑنے کے خدشات انتہائی شدید ہو گئے ہیں۔
ادھر یمن کے حوثی گروپ کے ترجمان نے کہا ہے کہ گروپ نے بدھ کے روز سعودی عرب کے شہر مدینہ کی جانب کوئی ڈرون نہیں بھیجا اور نہ ہی سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی ہے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔
اتحاد کے مطابق ان حملوں کے ممکنہ اہداف میں مدینہ کا علاقہ بھی شامل تھا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’سعودی عرب کی جانب داغے گئے چار ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘
بعد ازاں ایک دوسرے پیغام میں انھوں نے کہا کہ یہ ڈرونز سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور مدینہ کے علاقے میں روکے گئے۔
المالکی نے ان حملوں کے ذمہ دار کسی فریق کا نام نہیں لیا، تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ایک اور ڈرون بھی سعودی عرب کے مشرقی حصے میں روک لیا گیا۔
Share this content:


