پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں واقع جامعہ پونچھ کے طلبہ و طالبات کے زیرِ اہتمام 21 اکتوبر کو ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں جامعہ کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش اور تعلیمی سرگرمیوں کے معطل رہنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے اور ویڈیو پیغام میں طلبہ نے درج ذیل پانچ اہم مطالبات پیش کیے ہیں:
جامعہ پونچھ کو معمول کی حکمتِ عملی کے تحت فوری طور پر کھولا جائے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔
فورسز کے کریک ڈاؤن اور کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے طلبہ کے معاملے پر واضح اور دوٹوک مؤقف اپنایا جائے۔
خطے میں انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور تعلیمی زونز سے غیر ریاستی و سیکیورٹی فورسز کا انخلا کیا جائے تاکہ تعلیمی ماحول قائم ہو سکے۔
تمام ڈیپارٹمنٹس کی ڈگریاں مقررہ سیشنز کے اندر اور وقت پر مکمل کر کے دی جائیں۔
انجینئرنگ اور دیگر شعبہ جات کے پرانے سیشنز کے بقایا پیپرز جلد از جلد لیے جائیں۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے جامعہ کو غیر اعلانیہ طور پر بند رکھا گیا ہے جس سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔
اجلاس میں انتباہ کیا گیا کہ اگر آئندہ چند دنوں میں ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہ کیا گیا تو طلبہ پوری ریاست کی سطح پر تمام جامعات کو منظم کرتے ہوئے بھرپور تحریک کا آغاز کریں گے۔
Share this content:


