اردن کا شام پرفضائی حملہ، 3 بچوں سمیت 7 افراد ہلاک

اردن کی فوج رائل ایئر فورس نے پیر کو جنوبی شام میں مبینہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اردنی فوج کے مطابق یہ کارروائی مملکت کے جنوبی صوبے کرک میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے متاثرین کےانتقام کے طور پر کی گئی اور اس کارروائی میں دمشق کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز اردن کی فوج کی جانب سے ملک کے جنوبی علاقے میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں ’عام شہری ہلاک‘ ہوئے ہیں، جبکہ اردنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا ہدف ’دہشت گرد تنظیمیں‘ تھیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق جنوبی شام کے صوبے درعا کے دیہی علاقوں میں متعدد مقامات پر کیے گئے فضائی حملوں میں ’سات افراد ہلاک اور تین زخمی‘ ہوئے۔

درعا کے محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد الامیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات تک پہنچ گئی، جن میں تین بچے، ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں

شامی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں دو مرد اور ایک بچہ شامل ہے۔

اس سے قبل سوموار کو اردن کی رائل ایئر فورس نے جنوبی شام میں مبینہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اردنی فوج کے مطابق یہ کارروائی مملکت کے جنوبی صوبے کرک میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے متاثرین کےانتقام کے طور پر کی گئی اور اس کارروائی میں دمشق کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ کرک کے گاؤں حمود میں تین مسلح افراد نے ایک چرچ پر حملہ کیا تھا جس میں نو افراد ہلاک جبکہ قریب 40 افراد زخمی ہوئے تھے۔

Share this content: