بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں ایک مسلح جھڑپ میں فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جبکہ 2 اغوا ہوگئے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا اور فائرنگ کا تبادلہ اور جھڑپ ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں 3 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ مسلح افراد 2 لوگوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
کہا جارہا ہے کہ یہ واقعہ گذشتہ شب قلع عبداللہ کے علاقے تنگ میزئی میں پیش آیاہے۔
مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد سابق افغان فوجی اہلکارہیں اور اس جھڑپ میں دیگر کئی افراد زخمی بھی ہو گئے۔
حملہ آور جاتے ہوئے اپنے ساتھ اسلحہ اور گولہ بارود بھی لے گئے۔
واقعہ کے بعد لواحقین نے لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جب کہ احتجاج کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ بند ہوگئی۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ مغویوں کی بحفاظت بازیابی ترجیح ہے۔
اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے، تاہم ماضی میں بھی بلوچستان میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ادارے مذکورہ سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں (جن میں فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے افراد شامل ہیں) کو ایک مسلح ملیشیا کے طور پر بلوچستان میں ریاستی پالیسی کے تحت برسرپیکار مسلح گروہوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
Share this content:


