امریکا نے وینزویلا پر حملہ کردیا، صدر نکولس مادورواورخاتون اول لاپتہ

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکی فوج نے وینزویلا پر حملہ کردیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر کے مطابق ہفتے کی علی الصبح وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکے ہوئے، سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور طیاروں کی پروازیں نظر آئیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر کے جنوبی حصے میں، ایک بڑے فوجی اڈے کے قریب، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ صورتحال کس وجہ سے پیدا ہوئی، جو تقریباً رات دو بجے شروع ہوئی، یا یہ واقعات شہر کے کن حصوں میں پیش آئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزیلا پر حملے کی تصدقی کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں اور اِس کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے کامیابی کے ساتھ وینزویلا اور اُس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔ مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔ آج صبح 11 بجے مار اے لاگو میں پریس کانفرنس ہو گی۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ! صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔‘

یہ اعلان امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ ٹرمپ نے کہا کہ مزید معلومات پریس کانفرنس میں فراہم کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے وعدے کرتے رہے ہیں اور انہوں نے صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا دانشمندانہ ہوگا۔

مادورو نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر تک رسائی کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ نے وینزویلا کے پانیوں میں آنے جانے والے تمام پابندی زدہ جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ پابندیوں میں توسیع اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں درجنوں بحری اہداف پر حملے بھی کیے گئے۔

وینزیلا پر امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم کے بعد وینزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وینزویلا کی حکومت کو صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلوریس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت دونوں کے لیے ’پروف آف لائف‘ (یعنی زندہ ہونے کا ثبوت) فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

Share this content: