مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر ایران کے حملوں کے بعد امریکہ نے اپنے شہریوں کو خطے کے ایک درجن سے زائد ممالک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
سنیچر کے روز عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کی عمارت پر میزائل گرنے کے بعد امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔
سفارت خانے نے لکھا: ’جو امریکی شہری عراق میں رہنے کا انتخاب کر رہے ہیں، وہ ایران سے منسلک دہشت گرد ملیشیاؤں کی جانب سے موجود سنگین خطرے کے پیشِ نظر اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔‘
اس کے علاوہ، روئیٹرز کے مطابق امریکہ نے سنیچر کے روز کہا کہ اس نے عمان میں موجود غیر ہنگامی نوعیت کی خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی۔
امریکی محکمۂ دفاع نے ان چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو 12 مارچ کو عراق میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔
ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں:جان اے کلنر، آریانا جی ساوینو، ایشلے بی پروئٹ، سیٹھ آر کووَل، کرٹس جے اینگسٹ، اور ٹائلر ایچ سمنز۔
یہ سب کے سی 135 طیارے کے عملے میں شامل تھے۔ یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔
پینٹاگون نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ طیارہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا اور نہ ہی دوست فوج کی فائرنگ اس حادثے کا باعث بنی۔
جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والی ایک اہلکار 31 سالہ کیپٹن آریانا جی ساوینو واشنگٹن کی رہائشی تھیں اور امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا کے قریب میک ڈل ایئرفورس بیس میں تعینات تھیں۔
Share this content:


