امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس وقت ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ’کیوں کہ شرائط ابھی اتنی مناسب نہیں ہیں۔‘
ہفتے کے روز امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر نے یہ واضح کرنے سے انکار کیا کہ وہ شرائط ہوں گی کیا، لیکن ٹرمپ نے یہ ضرور کہا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کے جوہری عزائم ترک کرنے کا وعدہ مکنہ معاہدے کا حصہ ہو گا۔
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے کئی ممالک نے مدد کا وعدہ کیا ہے، تاہم انھوں نے ان ممالک کے نام بتانے سے گریز کیا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے تیل برآمدات کے لیے اہم ایرانی جزیرے خارگ کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے لیکن ’مزا لینے کے لیے شاید ہم اسے چند بار اور نشانہ بنائیں۔‘
تیل کی بڑھتی قیمتوں کے خدشات کو پس پشت ڈالتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا: ’تیل اور گیس کی بہت زیادہ مقدار موجود ہے، لیکن ابھی اس کی فراہمی کسی حد تک رکی ہوئی ہے۔ اسے بہت جلد کھول دیا جائے گا۔‘
انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔
انھوں نے کہا: ’میں نہیں جانتا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کوئی بھی انھیں سامنے نہیں لا سکا۔‘ ٹرمپ نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو اپنا پہلا بیان کیمرے پر بولنے کے بجائے تحریری شکل میں جاری کیا تھا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کی خبروں کو ’افواہ‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’میں سن رہا ہوں کہ وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو اپنے ملک کی خاطر سمجھداری سے کام لیتے ہوئے انھیں ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔‘
Share this content:


