اسلام آباد /کاشگل نیوز
آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے ملک گیر وکلا تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی تعطیلات کے اختتام کے بعد تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جس کی قیادت سینئر قانون دان علی احمد کرد کریں گے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے احاطے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت علی احمد کرد نے کی، جہاں وکلا ایکشن کمیٹی نے متفقہ طور پر تحریک شروع کرنے کی قرارداد منظور کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ یہ جدوجہد صرف وکلا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوام کو بھی اس تحریک کا حصہ بنایا جائے گا، کیونکہ موجودہ حالات میں عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔
اجلاس میں منظور کی گئی چھ نکاتی قرارداد میں ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ تقرریاں اہلیت کے بجائے سیاسی وابستگی اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ قرارداد میں ججز کے انٹرویو کے موجودہ نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
وکلا ایکشن کمیٹی نے بلوچستان، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان علاقوں کے مسائل اور شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے قیام اور قومی سطح پر عوامی مکالمے کا مطالبہ کیا۔
قرارداد میں سیاسی قیدیوں، وکلا رہنماؤں اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی مسلسل گرفتاریوں پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کی پالیسی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
کمیٹی نے بار کونسل انتخابات میں مبینہ مداخلت اور دھاندلی کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام انتخابات قانون کے مطابق، بروقت اور نادرا کی تصدیق کے ذریعے کرائے جائیں۔
وکلا ایکشن کمیٹی کے مطابق تحریک کا پہلا عوامی جلسہ خیبر پختونخوا میں منعقد کیا جائے گا، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی دعوت پر لندن میں بھی ایک پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سندھ کے علاقے ببرلو میں جاری دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سندھ حکومت سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
Share this content:


