پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے طالبعلم رہنما مجیب اکبر کو مبینہ طو رپر لاہور سے اغواء کر لیا گیا ہے۔ ان کی اہلیہ فائزہ خان کے مطابق جمعہ(17جولائی)کی دوپہر تقریباً 2بجے ایجوکیشن ٹاؤن، وحدت روڈ لاہور میں واقع ان کے فلیٹ سے چند اہلکاروں نے حراست میں لیا اور ایک ایمبولینس میں لے گئے، جس پر کوئی نمبر پلیٹ نہیں تھی۔
فائزہ خان نے ’جدوجہد‘ کو بتایا کہ ان کے دروازے پر دستک ہوئی تو دروازہ کھولنے پر کم از کم 5 اہلکار اندر داخل ہوئے، جن میں سے دو نے کالی وردیاں پہن رکھی تھیں اور وہ مسلح تھے، جبکہ دیگر اہلکار سول کپڑوں میں ملبوس تھے اور اپنا تعلق سرکاری ادارے سے ظاہر کر رہے تھے۔
انکا کہنا تھا کہ وہ ان کے شوہر کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
فائزہ خان کا کہنا تھا کہ وہ مجیب اکبر کو اپنے ساتھ پیدل سڑک پر تھوڑی دور تک لے کر گئے اور پھر آگے جا کر وہ ایک ایمبولینس پر سوار ہو گئے،جو ان کے پیچھے ہی تھی۔
انکا کہنا تھا کہ مجیب اکبر جموں کشمیر کی ایک بائیں بازوکی طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف)کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے جامعہ پنجاب سے سوشیالوجی میں گریجویشن مکمل کی ہے، اور وہ ایم فل میں داخلہ لینے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اس دوران وہ یہاں ایک مقامی کاروبار سے بھی منسلک ہیں۔
فائزہ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درخواست بھی دی ہے، تاہم ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی نمبر(15)پر اطلاع دینے پر چند اہلکار آئے اور انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی، جس میں اہلکار مجیب اکبر کو لے جاتے ہوئے اور ایمبولینس بھی ان کے پیچھے نظر آتی ہے۔
فائزہ خان نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مجیب اکبر کو فوری طور پر بازیاب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مجیب اکبر نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس طرح سے جبری طور پر ماورائے عدالت اغواء کرنا اور حبس بے جا میں رکھنا غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے۔
ادھر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بھی مجیب اکبر کو فی الفور اور غیر مشروط رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مجیب اکبر جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک کے سلسلے میں سرگرمیاں کر رہے تھے۔ اسی پاداش میں انہیں جبری طور پر اغواء کیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی جموں کشمیر کے متعدد سرگرم کارکنوں کو اسلام آباد سمیت پاکستان کے دیگر شہروں سے جبری طو رپر اغواء کیا گیا ہے۔ کچھ کارکنوں کو عدالتی احکامات کے بعدجموں کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تاہم متعدد کارکنان ایسے ہیں جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
پریس ریلیز میں مطالبہ کیا گیا کہ مجیب اکبر سمیت تمام اسیران اور جبری طور پر لاپتہ کیے گئے رہنماؤں کو فوری بازیاب کیا جائے اور غیر مشروط رہا کیا جائے۔
یاد رہے کہ کشمیر میں جاری حالیہ عوامی تحریک کے خلاف حکومتی فورسز کی کریک ڈائون سے اب تک 38 افراد کی جبری گمشدگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
Share this content:


