پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے صحافی سردار اویس کو لاپتہ ہوئے 28 روز مکمل ہو گئے ہیں۔ ان کی گرفتاری اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقلی کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آنے کے باعث صحافتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کی جاری احتجاجی تحریک کے دوران مختلف اضلاع سے کارکنان، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور صحافیوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت خطے میں سینکڑوں سیاسی کارکنوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، جے اے سی قیادت اور صحافیوں کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سردار اویس کو 22 جون کو ضلع باغ میں اس وقت مقامی پولیس نے حراست میں لیا جب وہ اپنے بچوں سے متعلق ایک اسکول میٹنگ میں شریک تھے۔ انہیں ابتدائی طور پر مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم بعد میں ان کی منتقلی کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ باغ پولیس نے بتایا کہ انہیں دھیرکوٹ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا، جبکہ وہاں سے معلوم ہوا کہ انہیں سینٹرل جیل مظفرآباد بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم، اہل خانہ اور وکلا کے مطابق اس کے بعد نہ تو انہیں دوبارہ کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق سامنے آئی ہے۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ سردار اویس کے خلاف گزشتہ سال چمیاتی کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں دہشت گردی کی دفعات اور دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی راولاکوٹ سمیت دیگر علاقوں میں ورکنگ جرنلسٹس کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
صحافتی تنظیموں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں آزادیٔ صحافت کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صحافیوں کو ہراساں کرنے اور اظہارِ رائے پر دباؤ ڈالنے کے الزامات بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
Share this content:


