نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق 3,900 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ ایسے کارکن بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ دریائے ترشولی کے کنارے پن بجلی کے منصوبوں میں موجود مٹی سے بھرے سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ان سرنگوں میں ہوا پہنچانے کے لیے انجینیئرز پمپس استعمال کر رہے ہیں۔ ایک امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کو نہ پانے کے بعد ٹیم واپس آ گئی۔
بی بی سی نیپالی سے گفتگو کرتے ہوئے 33 سالہ انجینیئر اوروس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ ہم انھیں تلاش کر سکیں۔ میری خواہش ہے کہ وہ گھر واپس آ جائیں۔‘ اوروس ایک پن بجلی منصوبے کی سائٹ سے لاپتہ ہیں۔
نیپال کے وزیرِاعظم بالیندر شاہ نے پیر کو بتایا کہ ان منصوبوں کی سائٹس سے 279 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔
امدادی کارروائی کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔
Share this content:


