یادیں,اپنی زمین پرریاستی قید میں۔ سمیہ بتول

0
95

یہ خوبصورت یادیں شروع ھوتی ہیں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے ایک دلکش علاقے محمودگلی سے۔ہم دوستوں نے مل کر یہ پلان بنایا کہ کیوں نہ اس عید کے موقع پہ فطرت کے مزید قریب ھوکے اسے خوبصورت یادوں میں شامل کیا جائے۔ہم نے فاروڈ کہوٹہ کے علاقے کو چنا کیونکہ یہاں مشہور اور دلکش سیاحتی مقامات ایک سفر میں ہی دیکھے جاسکتے ہیں جن میں ایک مشہور پتھر(ملیاڑی راک)جو زمین سے کئی فٹ اوپر گہری گھاٹیوں کے اوپر واقع ھے دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ نیل فیری جھیل جو قدرت کا انوکھا اور عظیم شاہکار ھےوہ بھی موجود ھے۔محمودگلی کے مقام پہ ہم نے اپنے دوستوں کا انتظار کیا اس انتظار کے دوران ہم نے کھانا کھایا اور ٹھنڈی جگہ پہ گرم گرم چائے پی۔ھوٹل کے بیرونی طرف لگی کھڑکیوں کے شیشوں سے پیرپنجال کے خوبصورت اور دل موہ لینے والے نظارے بار بار توجہ اپنی طرف مبذول کرواتے رہے۔برف سے ڈھکی چوٹیاں اور انکے نیچے درختوں پہ پھوٹتی نئی کونپلیں تازگی کا احساس دلاتی رہیں۔دوستوں کی آمد پہ ہم گاڑی میں سوار ھوئے اور اگلی منزل کی طرف چل پڑے۔ہمارا راستہ کہوٹہ،حویلی کی سرزمین سے ھوتا ھوا پہاڑوں کے اوپر تک جاتا تھا۔دوستوں کے ساتھ تعارف ھوا ہنسی مذاق اور پرجوش لمحے اور یادیں لیے ہم کیمپنگ کے لیے روانہ ھوئے۔ہم ضرورت کے سامان سے لیس تھے۔کہوٹہ ایک بڑا ڈسٹرک ھے جس میں کئی علاقے شامل ہیں ھر علاقے کی ثقافت مختلف ھے کئی جگہوں پہ لوگ مکمل کشمیری زبان بولتے ہیں اور کئی جگہوں پہ مکمل گوجری زبان۔لوگ ابھی تک اپنے آباواجداد کی روایات اور ثقافت کے ساتھ جڑے ھوئے ہیں۔ سب سے پہلے ہم کہوٹہ کے خوبصورت علاقے گگڈار سے گزرے جہاں اونچی پہاڑیوں نے گگڈار کو ایک چھوٹی وادی کی شکل دے رکھی تھی اور دو تلک جاتی سیدھی سڑک دوسری منزل کا پتہ دیتی ھے۔گگڈار سے نکل کے پلنگی کا چھوٹا سا بارونق بازار آتا ھے جہاں ضروریات زندگی کا مختصر سامان رکھا گیا ھے۔یہاں سے شروع ھوتا ھے ھیلاں کا سفر۔گگڈار سے آگے کے تمام سفر میں پانی ہمارے ہمراہ چلتا ھے۔سڑک کے کنارے کے ساتھ ساتھ بہتا پانی کبھی سڑک کے قریب آجاتا ھے اور کبھی دور۔۔پر ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ھوتا۔کہیں گہری گھاٹیاں اور کہیں بل کھاتی سڑک،تنومند درخت اور نرم نرم گھاس،سادہ لوح لوگ اور گھومتے پھرتے مویشی نگاہوں میں قدرت کے لیےخوبصورت احساس بھر دیتے ہیں۔ ایک جگہ سڑک کے درمیان ایک چھوٹی آبشار آن گرتی ھے جو مسافروں کے لیے اتنہائی پرجوش لمحہ مہیا کرتی ھےگاڑی پہ گرتا پانی مسافروں کی خوشی اور جوش کو خوشی بھری چیخوں میں بدل دیتا ھے۔یہ راستہ ہمیں ھیلاں آبشار تک لے جاتا ھے۔ایک چھوٹے اور خوفناک حد تک اونچے لوھے کے پل کے کنارے یہ آبشار پوری آب و تاب کے ساتھ آن گرتی ھے۔پل کے اور آبشار کے درمیان موجود پہاڑی مسافروں کو گیلا ھونے سے بچاتی ھے جبکہ پہاڑی کی طرف جاتا راستہ گرتے پانی کی بوچھاڑ اور چھینٹوں سے ہمیشہ گیلا رہتا ھے۔سفید دودھیا رنگ کی آبشار جب زمین سے ٹکراتی ھے تو اسکے چھینٹے دور تک اپنے ھونے کا احساس کرواتے ہیں۔گرمیوں کے موسم میں مسافر بخوشی اس کے قریب جاتے ہیں جبکہ سردیوں کے موسم میں یہاں سردی ناقابل برداشت حد تک ھوتی ھے جسکے باعث مسافر دور ہی رک کر اس حسین منظر کو ذہنوں کے کمروں میں قید کرتے ہیں۔ہم نے آبشار کے کنارے تصویریں بنائی اور آگے کی جانب چلے۔آبشار سے دس منٹ کی ڈرائیو پہ ایک پبلک پارک میں ہم دوستوں نے کیمپنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ جگہ قدرت کے تخفوں میں سے ایک تخفہ معلوم ھوتی ھے۔پارک کے ساتھ روانی سے بہتا پانی بنا کسی کی پرواہ کیے شور کرتا اپنی سمت رواں دواں رہتا ھےجبکہ پہاڑیوں سے ڈھکی یہ جگہ عوام کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ھے۔شام کے سہانے منظر میں ہم نے اپنے کیمپ لگائے اور لکڑیاں اکٹھی کرکے الاو بھڑکایا۔افق پہ چمکتا چاند ہم پہ اپنی چاندنی نچھاور کررھا تھا اور ہمارے احساسات میں بھرپور شامل تھا۔پانی میں چمکتے پتھر قیمتی جواہرات محسوس ھورھے تھے جبکہ آسمان پہ چمکتے تارے موتیوں سے بھرا تھال محسوس ھورھے تھے۔ہم نے کھانا بنانے کے لیے دیگچہ چڑھایا مگر ہماری خوشی کو خفگی میں بدلنے کے لیے پاکستانی فوج وھاں آن پہنچی اور ہمیں ہماری ہی دھرتی پہ ٹھہرنا ایک جرم بتایا گیا۔وہ گھاٹی،وہ وادی،وہ پتھر،وہ گھاس ہماری ھوتے ہوئے بھی ہماری نہیں۔اس خونی لکیر کے پاس اپنی دھرتی پہ ٹھہرنا بھی ایک جرم ھے۔ ہمارے ٹرپ میں شامل چند دوستوں کا تعلق جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن تھا ۔پاک فوج نے سختی سے ہمیںں کیمپ اکھاڑنے کا حکم دیا ۔جس پہ ہم نے کھانا بنانے کا وقت مانگا لیکن پاک فوج کسی صورت میں ہمارا وہاں رکنا برداشت نہیں کر رہی تھی ۔ہم تمام ساتھیوں کے شناختی کارڈ ہم سے لے لیے گئے اور ایک گھنٹہ ہمارے سامان کا معائنہ کیا گیا اور ڈیٹا چیک کرنے کے بہانے ہمارے شناختی کارڈ ضبط کیے گئے۔ہمارے نزدیک ہی ایک اور کیمپ تھا ۔اس کیمپ میں موجود نوجوانوں سےپاکستانی فوج نے کچھ نا کہا۔ہم کھانا بنانے کے وہاں سے نکلے اور ہمیں نزدیکی ھوٹل کے دو ٹوٹے پھوٹے کمروں میں رہنے کو جگہ مل گئی۔کھانا کھانے اور دھرتی کے دکھ گننے کے بعد ہم جلد ہی سوگئے کیونکہ اگلا دن نئی جگہ کا پیغام لانے والا تھا۔صبح سورج پوری خوشدلی کے ساتھ چمک رھا تھا۔چڑیاں اور چرند پرند بیدار ھوچکے تھے۔فریش ھونے کے بعد ہم سب اپنے اگلے سفر کو روانہ ھوئے آج کا سفر لمبا تھا کیونکہ ہم نے ھائیکنگ کرکے پہاڑیوں کے اوپر جانا تھا جہاں ایک مشہور پتھر جو پہاڑیوں کے اوپر واقع تھا وہ ہماری منزل تھا۔گاڑی کو ایک مخفوظ جگہ پہ پارک کرنے کے بعد ہم محتصر سامان اٹھائے پہاڑی کی طرف روانہ ھوئے۔آٹھ افراد پہ مشتمل ہماری ٹیم بہت مضبوط تھی۔جلد ہی کچی سڑک ختم ھوگئی اور ہم چڑھائی کے راستے پہاڑی کی چوٹی کی طرف چل دئیے۔راستے میں قدرت کے حسین مناظر ہمارا حوصلہ بڑھاتے رھے اور ہمیں مزید اوپر جانے پہ مجبور کرتے رھے۔ایک وادی دوسری وادی اور ان میں بنے ٹین والے رنگدار مکان جڑے ھوئے نیلے پیلے اور مختلف رنگوں کے پھول معلوم ھوتے تھے۔راستے میں ہمیں ایک لڑکی ملی جس نے بتایا کہ ہم لوگ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے راولپنڈی شفٹ ھوگئے تھے جہاں ہم بہن بھائیوں نے تعلیم حاصل کی۔اتنی خوبصورتی میں رہنے والے لوگوں کی بنیادی ضروریات کو حاصل کرنے کی تگ و دو کو دیکھ کے دل بھر آیا۔کئی میل دور سے لوگ اناج کے تھیلے اٹھا کر دشوار راستے عبور کرکے اپنے گھروں تک پہنچتے ہیں اور زندہ رہنے کے لیے ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔عمارہ ہمیں اپنے گھر لے آئی اور چائے پانی سے ہماری مہمان نوازی کی۔انکے والد اور اھل خاندان نے ہماری حوصلہ افضائی کی اور ہمیں راستے کے بارے میں رہنمائی کرتے ھوئے رحصت کیا۔باتیں کرتے چڑھتے چڑھتے ہم تقریبا دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم اس پہاڑی تک پہنچے جہاں ہماری منزل تھی۔حطرناک گھاٹیوں کے اوپر ایک بلند پہاڑ جس کا نام ملیاڑی راک ھے جس کا ایک کونہ زمین سے کئی فٹ اوپر موجود تھا جس پہ چڑھ کے مسافر اپنی تصویریں کھچوا رھے تھے۔خوبصورتی کے ساتھ ساتھ یہ پہاڑ خطرناک بھی تھا کیونکہ اسکے نیچے گہری گھاٹیاں موجود تھیں۔پہاڑوں پہ موسم کے بدلنے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔ابھی تک جو دھوپ پوری تمازت کے ساتھ موجود تھی وہ بارش میں بدل چکی تھی۔بارش کی موٹی موٹی بوندیں ہمیں بھگوئے جارہی تھیں۔مگر ہمیں بھگونے سے پہلے ہی موسم پھر بدل چکا تھا اور بادلوں کی جگہ دھوپ لے چکی تھی۔ہم تمام دوستوں نے بھی تصویریں لیں اور اردگرد موجود مقامات اور حسین مناظر سے لطف اندوز ھوئے۔وقت کافی بیت چکا تھا لہذا ہم نے واپسی کا رخ کیا۔چڑھائی کی نسبت اترنا آسان تھا لہذا ہم جلد ہی گاڑی تک پہنچ گئے۔یہاں سے ہم نے نیل فیری جھیل تک پہنچنا تھا چنانچہ جلد ہی ہم نے اگلا سفر شروع کردیا ہمارا پلان تھا نیل فیری پہ کیمپنگ کرنے کا مگر آج موسم نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔بارش اور ھوا طوفان کی شکل اختیار کرگئی جس کے باعث ہم جھیل تک نہ پہنچ سکے اور ہمیں راستے میں رکنا پڑا۔جہاں ہم رکے اس جگہ کا نام برنگ بن)Bring ban(تھا۔یہ ایک خوبصورت گاوں تھا جہاں کے لوگ اتنہائی بااخلاق اور مہمان نواز تھے۔ہمیں ایک میرج ھال جو ایک کچا اور بڑا کشادہ،صاف ستھرا ھال تھا جہاں بستر بڑی تعداد میں موجود تھے۔یہاں کے لوگ انتہائی مہمان نواز تھے انکے اخلاق اور مہمان نوازی کی جتنی تعریف کی جائے کم ھوگی۔انہوں نے پانی چائے سے لے کر ہرچیز کا خیال رکھا کھانے کے بعد پیدل چلنے کی تھکاوٹ کی وجہ سے ہم جلد سوگئے۔گاوں کی خوبصورت صبح میں ہم سب نے گرم گرم ناشتہ کیا جو ان گھروالوں نے خاص ہمارے لیے بنایا تھا۔ہم اپنا ضروری سامان اٹھائے باقی سامان اسی ھال میں رکھ کر جھیل کی طرف روانہ ھوئے۔انہوں نے ہمارے ساتھ اپنی دو بیٹیاں بھیجی تاکہ ہمیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ہم لوگ اب اپنی آخری منزل نیل فیری جھیل کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں ہم نے مختلف رنگوں کے پتھر دیکھے اور خنک ھوا ہمارا ساتھ دیتی رہی۔ایک جگہ ہم نے پتوں سے ٹپکتا پانی دیکھا جو اتنہائی حیران کن اور دلچسپ نظارہ تھا ۔خوبصورت مناظر سے مخظوظ ھوتے ھوئے ہم پہاڑی کی چوٹی کی طرف جارھے تھے۔دونوں بچیاں ہمارے ساتھ باتیں کرتی ہمارا ساتھ دے رہی تھیں۔اپنی مشکلات اور مسائل بتاتے ھوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پورے علاقے میں ایک سکول ھے جو آٹھویں جماعت تک ھے تمام بچیاں آٹھویں جماعت تک ہی پڑھ پاتی ہیں جبکہ کچھ بچیاں صرف پانچویں تک تعلیم حاصل کرپاتی ہیں۔ہمارے پاس سڑک جیسی سہولت موجود نہیں ھے جس کی وجہ سے ہمیں سودا سلف لانے میں بہت مشقت کرنی پڑتی ھے اگر کوئی بیمار ھوجائے تو اسکو ہسپتال تک لے جانے کے لیے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے سرکار کو ہماری طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔آپ لوگ ضرور اس بات کو سرکار تک پہنچانے میں کردار ادا کریں۔عوامی مسائل پہ گفتگو کرتے ہم انکے کچے گھروں تک پہنچ گئے جنہیں ٹارے کہا جاتا ھے۔یہ مٹی اور لکڑی سے بنے خوبصورت گھر گرمیوں میں مویشیوں کے ٹھہرنے کی جگہ ھوتے ہیں جن میں ایک کمرہ لوگ کچن اور بیڈروم کے لیے استمعال کرتے ہیں۔بچیوں نے ہمیں باھر بٹھایا اور فورا قہوہ بنا کے پیش کیا۔اس مہمان نوازی پہ ہم انکے نہایت مشکور ھوئے کیونکہ ہمیں اسکی طلب ھورہی تھی۔قہوہ پینے کے بعد ہم جھیل کی طرف روانہ ھوئے۔ہلکے ہلکے بادل آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رھے تھے اور پہاڑوں کے موسم پہ بھروسہ کیا نہیں جاسکتا لہذا ہم بنا رکے چوٹی کی طرف بڑھتے گئے۔مختلف مقامات سے گزرتے گزرتے ہم پہاڑ پہ پہنچے جہاں قدرت نے ہمارا استقبال پھولوں سے کیا۔پھولوں کا مرغزار جو تاخد نظر پھیلا ھوا تھا۔جامنی رنگ کے پھول جو اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ رھے تھے2 اور اپنی معصومیت کی وجہ سے مسافروں کو پاوں سنبھل کے رکھنے پہ اکسا رھے تھے مزید تھوڑ سا اوپر جانے پہ ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ ایک لمبے سفر کے بعد جھیل ہمارے سامنے موجود تھی۔ایسا لگتا تھا قدرت نے واقعی اسے فرصت سے بنایا ھے۔پہاڑوں کے درمیان میں موجود جھیل اور اس میں جھانکتا آسمان جس پہ ہلکے ہلکے بادل محورقصاں تھے اپنا عکس دیکھ رھے تھے۔جھیل کے دوسری طرف بے ڈوری کی برفیلی چوٹیاں مسکراتی ھوئی محسوس ھورہی تھیں۔ابھی ہم نے تصویریں بھی نہیں بنائی تھیں کہ بادلوں نے آسمان کو مکمل ڈھانپ لیا اور برف کے اولے گرنے لگے۔ہم نے بھاگ کے پہاڑ کے نیچے پناہ لی سردی کی شدت میں یکدم اضافہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ھوتا جارھا تھا۔برف کے اولے پہاڑوں کی چوٹیوں کو سفید کر رھے تھے۔جھیل کے پانی میں گرتے برف کے اولے پانی میں گرتے یوں محسوس ہو رھے تھے جیسے کوئی سر کی تاروں کو چھیڑ رھا ھو۔تھوڑی ہی دیر میں نیلے آسمان کی جگہ کالے بادلوں نے لے لی جو جھیل کے پانی میں جھانک کے اپنا عکس دیکھ رھے تھے۔ہم نے تصویریں لیں اور کچھ دیر رکنے کے بعد ہم واپس اپنے گھروں کی جانب روانہ ھوئے۔ان تمام لوگوں کے لیے احترام اور محبت کے جذبات لیے جنہوں نے ہمارےوز سفر کو سپیشل بنایا اپنا خوبصورت وقت ہمیں دیا اور ہماری مہمان نوازی کی۔آج اپنے کمرے میں بیٹھے یہ لکھتے ھوئے وہ تمام مناظر میری روح کو تازگی بخشتے ہیں اور یاد کرنے پہ بے ساختہ مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here