یمن کے حوثی گروپ (انصار اللہ) نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ یمن کے خلاف کسی فوجی کارروائی یا مداخلت میں شریک ہوا تو اسے ’تیز اور دردناک‘ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ سعودی عرب نے حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یمن کے خلاف کسی جارحیت میں شامل ہوا تو حوثی نہ صرف امریکی مفادات بلکہ خطے میں موجود اس کے تمام ممکنہ اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کسی مداخلت سے تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور خطہ وسیع پیمانے پر کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
محمد البخیتی نے سعودی عرب میں واقع تیل تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنصیبات اب ’جائز اہداف‘ بن چکی ہیں کیونکہ حالات وسیع تر تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ حالیہ حملے غیر معمولی نوعیت کے ہیں اور سعودی عرب کا ردعمل بھی اسی شدت کا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے عالمی تحفظ کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور مملکت کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ادھر ایران نے ایک بار پھر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور تنازع کے فریقین کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے متعدد بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ اور مشرقی صوبے میں واقع آرامکو سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں کے مطابق حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں متاثر ہوئیں جبکہ سعودی حکام نے ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے شہری ہوا بازی کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل یا محدود کر دی ہیں۔
امریکی سفارت خانے نے بھی سعودی عرب میں تعینات اپنے سرکاری ملازمین کے لیے ہوائی اڈوں کے استعمال پر اضافی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود میں پروازوں کے دوران خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مشترکہ دفاعی اور سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حملے دراصل پورے خلیجی خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کا مشترکہ جواب ضروری ہے۔
یمن میں بھی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجوؤں نے جنوبی مغربی شہر تعز کے گرد اہم راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہر کا زمینی رابطہ محدود ہو گیا ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثیوں نے تعز کے اطراف نئی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ حکومتی فورسز جوابی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
Share this content:

