یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ نے ایک مرتبہ پھر سے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے ملازمین اور مسافروں کو سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انصار اللہ کے ترجمان نے اتوار کی صبح کہا کہ ایئرپورٹ محفوظ نہیں اور بدستور ’فوجی ہدف‘ ہے۔ اس سے قبل ایئرپورٹ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ رواں ماہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملے رکنے کے بعد اتوار، 25 اکتوبر سے پروازیں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے سنیچر کی شام بتایا تھا کہ اتوار سے پہلا ٹرمینل اندرونِ ملک پروازوں جبکہ دوسرا ٹرمینل قومی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص ہو گا۔
یہ اعلان حوثی گروپ کی جانب سے سنیچر کو سعودی عرب میں ایئرپورٹس، تیل کی تنصیبات اور ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد سامنے آیا۔ گروپ نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے مرکز عدن میں بھی مختلف مقامات پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
سنیچر کو اس سے قبل حوثی جنگجوؤں نے عدن میں النصر کیمپ اور ایک بحری اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا۔
انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان حملوں میں دونوں مقامات پر موجود سعودی فوجی دستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول، سعودی افسران ان دستوں کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سات کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق، ان کارروائیوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دو مرحلوں میں، دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں میں ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، خام تیل پمپ کرنے والے اسٹیشنز اور سعودی عرب کے مشرقی حصے سے مغربی حصے تک جانے والی تیل کی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
Share this content:


