راولاکوٹ میں مظاہرین کے خلاف کارروائی، جنگی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں پانچ نومبر کو جاری احتجاجی دھرنوں کے خلاف پاکستان کے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران جنگی ہتھیار استعمال کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

مقامی ذرائع اور مظاہرین کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں مبینہ طور پر بھاری ہتھیاروں کے استعمال اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن احتجاج کر رہے تھے، تاہم ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔

مظاہرین نے کارروائی کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاج میں شامل افراد نے پاکستان کے عوام، انسانی حقوق کے کارکنوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ راولاکوٹ میں مبینہ کارروائی کے خلاف آواز بلند کریں اور متاثرہ افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔

مقامی ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے اور ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

حکام کی جانب سے کارروائی، ہتھیاروں کے استعمال اور جانی نقصان سے متعلق تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

Share this content: