راولاکوٹ کشیدگی کے بعد کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاج، مظفرآباد میں فلیگ مارچ، طلبہ کا احتجاج

فرحان طارق /مظفرآباد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے شہر راولاکوٹ میں حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ دارالحکومت مظفرآباد میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا ہے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے سی) کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں تین شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جمعرات کی سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے ایک اور ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں چار شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان واقعات کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

راولاکوٹ میں کشیدگی کے تناظر میں ڈسٹرکٹ پولیس راولاکوٹ کی جانب سے ایک فلائر بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔

پولیس کے جاری کردہ فلائر کے مطابق پانچ یا اس سے زائد افراد کے کسی بھی مقام پر اجتماع، جلسے، جلوس، ریلی اور احتجاج پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

ادھر پونچھ ڈویژن کے ضلع باغ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے بھی ایک اشتہار جاری کیا گیا ہے، جس میں ضلع کے عوام کو غیر قانونی اسلحہ متعلقہ تھانوں میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اشتہار کے مطابق ملکی اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ضلع کے عوام کے پاس موجود غیر قانونی اسلحہ دس روز کے اندر متعلقہ تھانے میں جمع کرانا ہوگا، جبکہ لائسنس یافتہ اسلحہ بغرض معائنہ و تصدیق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر میں پیش کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد کسی بھی عذر کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

راولاکوٹ میں حالیہ کارروائی اور کشیدگی کے بعد دارالحکومت مظفرآباد میں بھی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا۔

دوسری جانب جامعہ کشمیر کے طلبہ نے راولاکوٹ میں ہونے والی کارروائی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ طلبہ کی جانب سے کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا گیا۔

راولاکوٹ میں حالیہ صورتحال کے بعد ایک طرف احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور دوسری جانب مختلف اضلاع میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتحال پر مزید کشیدگی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

Share this content: