میانمار فوج کا ہسپتال پر فضائی حملہ، مریضوں سمیت 34 سے زائد افراد ہلاک

میانمار میں ایک ہسپتال پر فوج کی جانب سے کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں 34 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ حملہ بدھ کی رات گئے ملک کے مغربی حصے میں واقع ایک ہسپتال پر کیا گیا ہے جس میں اب تک کم از کم 34 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ملک بغاوت کے بعد اس ماہ کے آخر میں اپنے پہلے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم فوج کے حامی ٹیلیگرام اکاؤنٹس کا دعویٰ ہے کہ حالیہ حملے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھے۔

یہ ہسپتال ریاست راکھین میں مروک-او نامی قصبے میں واقع ہے۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ اراکان آرمی کے کنٹرول میں ہے جو فوجی حکومت کے خلاف لڑنے والی سب سے طاقتور نسلی مسلح تنظیموں میں سے ایک ہے۔

2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے یہاں خانہ جنگی جاری ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں فوج نے نسلی گروہوں سے علاقے واپس لینے کے لیے فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

ریاست رخائن میں حکومت مخالف گروپ اراکان آرمی کے ترجمان خائن تھو کھا نے بتایا کہ ریاست کے علاقے مراؤک یو ٹاؤن شپ میں واقع ہسپتال بدھ کو دیر گئے ایک فوجی طیارے سے گرائے گئے بموں سے تباہ ہو گیا۔ فضائی حملے میں ہسپتال کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بہت زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

دوسری جانب میانمار کی فوج نے ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

آرمی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں سپتال کے مریضوں کی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ یہ دہشت گرد فوج کی جانب سے شہری مقامات پر تازہ ترین وحشیانہ حملہ ہے۔ فوج کو شہریوں پر بمباری کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں ہسپتال کی عمارتوں کی چھتیں تباہ، ٹوٹے ہوئے بستر اور زمین پر بکھرا ہوا ملبہ دکھائی دیتا ہے۔

یاد رہے کہ فوجی حکومت کئی سالوں سے نسلی ملیشیاؤں کے ساتھ خونریز لڑائی میں الجھی ہوئی ہے اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس نے ملک کے آدھے سے زیادہ حصے پر کنٹرول کھو دیا تھا تاہم لیکن چین اور روس سے ملنے والی نئی ٹیکنالوجی اور سازوسامان نے یہاں حالات بدلنے میں مدد کی ہے۔

فوجی حکومت نے فضائی حملوں کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

فوجی حکومت کے دور میں شہری آزادیوں میں شدید کمی آئی ہے۔ انسانی حقوق کے گروہوں کے مطابق دسیوں ہزار سیاسی مخالفین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

میانمار کی فوجی حکومت نے 28 دسمبر کو ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا ہے اور اسے سیاسی استحکام کی راہ قرار دیا ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات نہ آزاد ہوں گے نہ منصفانہ، بلکہ فوجی حکومت کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ ہوں گے۔

Share this content: