امریکہ نے نائجیریا میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف ’بھرپور حملہ‘ کیا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمال مغربی نائجیریا میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے خلاف ’بھرپور‘ اور مہلک حملے‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا ہے کہ نائجیریا میں یہ گروہ زیادہ تر بے گناہ مسیحیوں کو نشانہ بنا کر بے رحمی سے قتل کر رہا ہے۔

صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ’کئی بہترین حملے‘ کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکی افواج نے ’متعدد کامیاب حملے‘ کیے لیکن انھوں نے اس ضمن میں کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب امریکی افریقہ کمانڈ (افریکوم) نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی کہ حملہ نائجیریا کو اعتماد میں لیتے ہوئے صوبہ سوکوتو میں کیا گیا ہے۔

نائجیریا کے وزیر خارجہ یوسف معیتما کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک مشترکہ کارروائی تھی جس کا مقصد ’دہشت گردوں‘ کو نشانہ بنانا تھا اور اس کا کسی خاص مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کوسوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’میری قیادت میں امریکہ اسلامی دہشت گردی کو پنپنے نہیں دے گا‘

یاد رہے کہ نومبر میں ٹرمپ نے امریکی فوج کو نائجیریا میں اسلام پسند عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی تیاری کا حکم دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نائجیریا کے مسیحیوں کے خلاف نسل کشی ہو رہی ہے، دوسری جانب انسانی حقوق کے ادارے اور تشدد پر نظر رکھنے والے گروہ کہتے ہیں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مسیحیوں کو مسلمانوں سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ نائجیریا میں مسلمان اور مسیحی آبادی کا تناسب تقریبا برابر ہے۔

نائجیریا کے صدر بولا ٹینوبو کے مشیر نے کہا کہ ملک خودمختار ہے اور کسی بھی عسکری کارروائی کو مشترکہ طور پر انجام دینا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ شدت پسند کسی خاص مذہب کو نہیں بلکہ تمام مذاہب یا بے دین لوگوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

Share this content: