انڈین فوج نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے نئی پالیسی جاری کر دی ہے جس کے تحت فوجی اہلکار اب انسٹاگرام، فیس بُک، ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب، لنکڈ اِن جیسی ایپلیکیشنز کو صرف دیکھنے اور نگرانی کرنے کے لیے تو استعمال کر سکیں گے لیکن اُن پر مواد پوسٹ کرنا، تبصرہ کرنا، لائیک یا شیئر کرنا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
انڈیا کے خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق دفاعی حکام نے اِس حوالے سے واضح ہدایات جاری کی ہیں جس کے تحت واٹس ایپ، ٹیلی گرام، سگنل اور سکائپ جیسی پیغام رسانی کی ایپس پر فوجی اہلکاروں کو صرف غیر خفیہ یا عمومی نوعیت کی معلومات اپنے جان پہچان کے رابطوں کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت ہو گی۔
نئی پالیسی کے مطابق اس بات کی ذمہ داری صارف پر ہو گی کہ وہ درست اور تصدیق شدہ اکاؤنٹ کی شناخت کرے۔
انڈیا کے فوجی اہلکار انسٹاگرام تک صرف مشاہدے اور نگرانی کے مقاصد کے لیے رسائی حاصل کر سکیں گے تاہم انسٹاگرام پر کسی قسم کے تبصرے یا خیالات کا اظہار نہیں کیا جائے گا
اے این آئی کے مطابق یہ پالیسی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ملٹری انٹیلیجنس (DGMI) نے جاری کی ہے تاکہ سائبر خطرات، غلط معلومات اور حساس معلومات کے پھیلنے کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس کا مقصد فوجی اہلکاروں کو محدود ڈیجیٹل رسائی دینا ہے، لیکن ساتھ ہی سخت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا بھی ہے۔
اے این آئی کے مطابق ایکس، کورہ، یوٹیوب، جیسی سوشل میڈیا ایپس صرف معلومات تک رسائی کے لیے استعمال کی جس سکتی ہیں جہاں فوجی اہلکاروں کو خود فعال یا ایکٹیو رہنے کی اجازت نہیں ہو گی نہ ہی کسی دیگر صارف کا مواد یا پیغام اپلوڈ یا ری پوسٹ کیا جا سکے گا۔
اے این آئی کے مطابق لنکّ ان کے اکاؤنٹ کو اپنا سی وی اپ لوڈ کرنے اور ممکنہ ملازمین یا آجروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
Share this content:


