روس کا یوکرین پر تازہ حملہ، ماسکو امن نہیں چاہتا،صدر زیلینسکی

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ہونے والے ایک اہم اجلاس سے قبل روس نے کییف اور یوکرین کے دیگر علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

یوکرینی صدر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تازہ روسی حملوں میں تقریباً 500 ڈرون اور 40 میزائل یوکرین کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

زیلینسکی نے بتایا کہ حملے کا بنیادی ہدف یوکرین کا دارالحکومت کیيف تھا، جہاں توانائی کے مراکز اور شہری ڈھانچے متاثر ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ رات کو ہوئے ان حملوں کی وجہ سے یوکرینی دارالحکومت کے ایک بڑے حصے میں توانائی کی ترسیل منقطع ہو گئی۔

صدر زیلینسکی نے اپنی پوسٹ میں اشارہ دیا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ روس یوکرین اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ امن مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔

یوکرین کے صدر نے لکھا، ’’روسی نمائندے طویل بات چیت کرتے ہیں لیکن حقیقت میں (روسی کنزاہل بیلسٹک میزائل اور ایرانی ساختہ ‘شاہد’ ڈرون) ان کی زبان ہیں۔‘‘

صدر زیلینسکی نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور دیگر روسی حکام "جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے اور وہ ہر موقع کو استعمال کرتے ہیں تاکہ یوکرین کو مزید تکلیف پہنچا سکیں اور دنیا بھر میں دوسروں پر دباؤ بڑھا سکیں۔”

زیلینسکی نے امریکہ اور کییف کے یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ماسکو پر دباؤ ڈالنے اور فضائی دفاعی سامان کی تیز تر فراہمی کے لیے "واقعی مضبوط اقدامات” کریں۔

یوکرینی صدر نے اعلان کیا، ’’سکیورٹی کے بغیر سفارت کاری کام نہیں کرے گی۔‘‘

دوسری طرف ان روسی حملوں کے بعد پولش حکومت نے جنوب مشرقی پولینڈ کے دو ہوائی اڈوں کو بند کر دیا تھا۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ اب وہاں معمول کا آپریشن بحال ہو چکا ہے۔

پولش حکومت کے مطابق رات کو یوکرین میں کی گئی روسی کارروائی کی وجہ سے پولینڈ اور اتحادی افواج کے فوجی طیارے ملکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے فعال کر دیے گئے تھے۔

پولینڈ کی مسلح افواج کے آپریشنل کمانڈ (DORSZ) نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پولینڈ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔

Share this content: