مظفرآباد/شگل نیوز
پاکستان کے زیرا نتظام جموں کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں ایک بدنامِ زمانہ مبینہ جنسی اسکینڈل سے منسلک ڈپٹی سیکرٹری وزیراعظم سیکرٹریٹ عارف بٹ کو سرکاری ملازمت پر بحال کیے جانے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق عارف بٹ پر ماضی میں ایک خاتون کی جانب سے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد معاملہ عدالتی کارروائی تک پہنچا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں موصوف نے مبینہ طور پر اسی خاتون سے ایک کروڑ روپے مہر کے عوض نکاح کیا اور عدالت سے ضمانت حاصل کی۔
بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے پر اس وقت الیکشن کمیٹی نے بھی ایک واضح مؤقف اختیار کیا تھا، تاہم اب موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں عارف بٹ کو نہ صرف ملازمت پر بحال کیا گیا بلکہ بحالی کا اطلاق پچھلی تاریخوں سے کیا گیا ہے، جس پر شفافیت اور احتساب کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اعلیٰ بیوروکریسی میں احتساب کا عمل کمزور ہے۔
ناقدین کے مطابق اگر الزامات درست تھے تو بحالی باعثِ تشویش ہے، اور اگر الزامات بے بنیاد تھے تو عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔
تاہم اس حوالے سے عارف بٹ، وزیراعظم سیکرٹریٹ یا متعلقہ حکومتی حکام کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، مگر خبر فائل کیے جانے تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہو سکا۔
معاملے نے ایک بار پھر آزاد کشمیر میں بیوروکریسی، سیاسی اثر و رسوخ اور احتساب کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے واضح اور شفاف جوابات عوام کی جانب سے طلب کیے جا رہے ہیں۔
Share this content:


