امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ’وینزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔
فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک ’انتہائی محفوظ فوجی قلعے‘ پر کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’انصاف کے کٹہرے‘ میں لا کھڑا کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کی ’شراکت داری‘ وینزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی، امریکا میں مقیم وینزویلا کے شہری انتہائی خوش ہوں گے اور اب انہیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔’
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا حملوں کی دوسری اور زیادہ بڑی لہر شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور واشنگٹن نے پہلے ہی یہ فرض کر لیا تھا کہ دوسرے حملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا آئیں گی، تیل کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کریں گی اور ملک کے لیے منافع کمانا شروع کریں گی۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ یو ایس ایس آییوو جیما وہی لڑاکا بحری جہاز ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکا لے جا رہا ہے۔
Share this content:


