امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے ردِعمل میں ایران پر حملے کے نئے آپشنز سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔
بی بی سی فارسی نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ کوئی قدم اُٹھانا چاہتے ہیں، لیکن اُنھوں نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ جون میں امریکہ نے ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ‘ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکہ ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔’
ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انھیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکہ ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ کہ جب عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین ایسے شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔
صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر ایرانی حکومت کو خبردار کیا کہ ‘اگر اُنھوں نے ماضی کی طرح اپنے لوگوں کا مارنا شروع کیا تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہم اُنھیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی۔ اس کا مطلب فوجی موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم انہیں پوری شدت سے ماریں گے۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔’
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔
Share this content:


