آزاد جموں و کشمیر (AJK) اور گلگت بلتستان (GB) کی عوامی تحریکوں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون اور منظم جدوجہد کو فروغ دینا، تاکہ سیاسی، معاشی اور انتظامی جبر کے خلاف مؤثر آواز بلند کی جا سکے اورتقسیم کی گئی ریاست ریاست جموں کشمیر کے یہ دونوں حصّے عوام کے حقوق، وسائل اور مستقبل کا تحفظ ممکن ہو۔
اجتماعی جدوجہد کیوں ضروری ہے:
آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان تاریخی طور پر ریاست جموں کشمیر کے حصے ہیں۔ جغرافیائی فرق کے باوجود، دونوں خطے یکساں نوعیت کے مسائل کا شکار رہے ہیں، جن میں سیاسی محرومی، آئینی حقوق سے انکار، معاشی استحصال، اور عوامی تحریکوں کو دبانے کی پالیسیاں شامل ہیں۔ پاکستانی کنٹرول کے تحت ان علاقوں میں جمہوری ادارے کمزور کیے گئے، خود اختیاری محدود کی گئی، اور عوام کے وسائل کو نقصان پہنچایا گیا۔ چونکہ جبر کی نوعیت اور اس کے ذرائع مشترک ہیں، اس لیے الگ الگ جدوجہد کمزور ثابت ہوتی ہے۔ صرف ایک متحد اور اجتماعی تحریک ہی ان ڈھانچوں کو مؤثر طور پر چیلنج کر سکتی ہے اور عوام کی آواز کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
تجویز:
اس لیے تجویز دی جاتی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی عوامی تحریکیں باضابطہ طور پر ایک دوسرے کی جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا اعلان کریں۔ جب ایک خطہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج، مزاحمت یا سیاسی جدوجہد میں مصروف ہو، تو دوسرا خطہ عملی یکجہتی کا مظاہرہ کرے، چاہے وہ عوامی حمایت ہو، سیاسی مؤقف ہو یا منظم احتجاج۔ اس اتحاد کو مؤثر اور مستقل بنانے کے لیے دونوں تحریکوں کی پر مشتمل ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی قائم کی جائے۔
مشترکہ رابطہ کمیٹی کی ذمہ داریاں:
ریاستی جبر یا سیاسی بحران کی صورت میں مشترکہ ردِعمل کو منظم کرنا احتجاج، ہڑتال یا عوامی تحریک کے دوران باہمی تعاون کو یقینی بنانا ۔
حکمتِ عملی، معلومات اور تنظیمی تجربات کا تبادلہ۔
مشترکہ بیانات، مہمات اور مربوط عوامی سرگرمیوں کا انعقاد۔
علاقائی شناخت کا احترام کرتے ہوئے سیاسی اتحاد کو مضبوط بنانا۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی تاریخ، جدوجہد اور مستقبل مشترک ہیں۔ اجتماعی جدوجہد کوئی اختیار نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اتحاد اور منظم رابطے کے ذریعے دونوں تحریکیں جبر کے خلاف زیادہ طاقتور مؤقف اختیار کر سکتی ہیں اور انصاف، وقار اور حقیقی حقِ حکمرانی کی طرف پیش قدمی کر سکتی ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


