یوکرین کے صدر ولادیمیر زلنسکی نے ایران میں حالیہ عوامی مظاہروں کو ’بغاوت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جاری مظاہرے صرف احتجاج نہیں بلکہ دراصل ایک بڑی ’عوامی بغاوت‘ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
زلنسکی نے پیر کے روز ایکس پر فارسی زبان میں لکھا کہ ’ایران میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، بشمول وسیع پیمانے پر جاری حکومت مخالف مظاہرے، دراصل ایک بغاوت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ احتجاج ’روس کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ حالات ان کے لیے بھی آسان نہیں ہوں گے۔‘
یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دنیا کا ہر عام انسان چاہتا ہے کہ ایرانی عوام بالآخر خوش قسمت ثابت ہوں اور اس جابرانہ حکومت سے آزادی حاصل کریں، جس نے نہ صرف ایران بلکہ یوکرین اور دیگر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔‘
زلنسکی نے زور دیا کہ ’یہ لمحہ ضائع نہیں ہونا چاہیے ایک ایسے وقت میں کہ جب تبدیلی ممکن ہے۔ ہر رہنما، ہر ملک اور بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایرانی عوام کی مدد کریں تاکہ وہ ذمہ داران کو اقتدار سے ہٹایا جا سکے۔‘
انھوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سب کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔‘
Share this content:


