پاکستان میں سرکاری افسر کا روپ دھار کر 3 کروڑ روپے کا فراڈ کرنے والا ملزم گرفتار

اسلام آباد /کاشگل نیوز

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری عہدے کی آڑ میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے والے ہائی پروفائل ملزم کو بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔

تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 3 کروڑ روپے کے مالی فراڈ میں ملوث ملزم صولت علی کو دھر لیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم صولت علی ماضی میں وزارتِ داخلہ میں بطور سیکشن آفیسر خدمات انجام دے چکا ہے جبکہ حالیہ عرصے میں وہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مبینہ طور پر ڈائریکٹر ٹو منسٹر (PS) کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس پر شہریوں کو سرکاری اثر و رسوخ کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم ہتھیانے کے الزامات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق متاثرہ شہری محمد جاوید گزشتہ تین برسوں سے انصاف کے حصول کے لیے مختلف اداروں کے چکر لگا رہا تھا۔ الزام ہے کہ ملزم نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے شہری سے 3 کروڑ روپے حاصل کیے اور بعد ازاں طویل عرصے تک مختلف بہانے اور جھوٹے وعدے کرتا رہا۔

بعد ازاں ملزم کی جانب سے دیا گیا چیک ڈس آنر ہونے پر سال 2022 میں تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ملزم اپنی مبینہ سرکاری حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گرفتاری سے بچتا رہا۔

ذرائع کے مطابق ملزم صولت علی صرف ایک کیس میں نہیں بلکہ تھانہ کوہسار اور تھانہ آبپارہ میں درج مزید تین مقدمات میں بھی اشتہاری تھا۔ عدالت کی جانب سے ایس ایس پی اسلام آباد کو ملزم کی فوری گرفتاری کے احکامات اور روبکار جاری کیے گئے تھے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

اعلیٰ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی شخص بالاتر نہیں، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرہ شہری کی رقم کی واپسی کو بھی ممکن بنایا جا سکے۔

Share this content: