سوشل میڈیا پر جاری فوٹیج سے عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت سے دھواں اٹھتا نظر آیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ امریکی سفارتخانے کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے سے نقصان ہوا ہے۔
اے ایف پی نے بھی متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملہ عراق کے دارالحکومت پر حملوں میں دو ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے مارے جانے کے فوراً بعد ہوا۔
بغداد میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی مشن کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (یو ایس سینٹکام) نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے طاقتور بم حملوں میں سے ایک کو سر انجام دیا ہے اور ایران کے جزیرہ خارگ پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔‘
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے جزیرے پر تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم، اگر ایران، یا کسی اور نے، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے آزاد اور محفوظ نقل و حمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کروں گا۔‘
انھوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور ’ان کے ملک میں جو بچا ہے اسے بچا لیں، جو کہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔‘
اس بیان سے کچھ ہی دیر قبل صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات کی تھی۔ اس دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں یہ جنگ کب تک جاری رہے گی، تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو میں بھی آپ کو نہیں بتا سکتا۔‘
’میرا مطلب ہے، میرا اپنا ایک اندازہ ہے، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘ انھوں نے کہا. ’جب تک ضرورت ہو گی تب تک چلے گی، وہ ختم ہو چکے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سے ان کی کیا مراد ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی بحریہ، فضائی اور فوج کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز ہی انھوں نے امریکہ کی جانب سے جزیرہ خارگ پر قبضے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کا اس جزیرے پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔
Share this content:


