امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی جس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔
ائیر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہماری بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہیں، بہت سے جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں اور ہم ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کررہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا انہوں نے ایران پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، ایران کو کہا تھاکہ اگرپھانسیاں دیں تو کارروائی کریں گے، میری دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیاں منسوخ کردیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس فوجی نقل و حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر فوجی کارروائی کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں اور اس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کریں گے تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا جواب دے گا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلد اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے بعد امریکہ واپسی سے پہلے ایئر فورس پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک بڑی فوج ایران کی طرف جارہی ہے لیکن کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا لیکن ہم ان پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انھوں نے ایران میں 800 سے زائد پھانسی رکوانے کا دعویٰ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایران میں جمعرات کو 837 افراد جن میں زیادہ تر مرد نوجوان شامل تھے کی پھانسیاں رکوائی ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے [ایران سے] کہا تھا کہ اگر آپ ان لوگوں کو پھانسی دیتے ہیں، تو آپ پر اتنا سخت حملہ ہو گا جتنا آپ پر آج تک نہیں ہوا ہے اور اس کے مقابلے میں ایرانی جوہری پروگرام پر حملہ بالکل معمولی محسوس ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے پھانسی سے محض ایک گھنٹہ قبل اس خوفناک اقدام کو منسوخ کر دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب جا رہا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
Share this content:


