باغ میں نوجوانوں کی اسٹڈی سرکل ،عوامی تحریکی مستقبل اور بیس کیمپ کا بیانیہ زیر بحث

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے باغ میں کمیون لائبریری کمیٹی کے زیر اہتمام ہفتہ وار کمیون اسٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا، جس میں "عوامی تحریکی مستقبل” کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں شریک اراکین نے عوامی تحریک کے مستقبل، خطے کی سیاسی حیثیت اور آئندہ لائحہ عمل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

شرکاء نے گفتگو کے دوران بیس کیمپ کی بحالی اور 24 اکتوبر کے ڈکلیریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیس کیمپ کا بیانیہ گزشتہ 78 برسوں سے پاکستانی ریاست کا سرکاری مؤقف رہا ہے، جس کی بنیاد پر 24 اکتوبر 1947 کی حکومت قائم کی گئی۔

مقررین کے مطابق اسی حکومت کے قیام اور اس کے ذریعے ہونے والے معاہدات نے ریاست کی متنازع حیثیت کو کمزور کرتے ہوئے اسے "مقبوضہ” نوعیت میں تبدیل کیا، جو عوامی استحصال اور بنیادی حقوق سے محرومی کا سبب بنا۔اسی استحصال کے خلاف یہاں کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور اس حکومت، حکمرانوں اور نظام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

اجلاس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام آزاد کشمیر کی اکائیوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، جس کے باعث موجودہ عوامی تحریک کے سامنے حقِ حکمرانی اور گلگت بلتستان کے ساتھ جڑت کا سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ چونکہ عوامی تحریک جمہوری حقوق کی جدوجہد ہے، اس لیے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں پیش رفت ہی اسے نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔ شرکاء کے مطابق تحریک کی آئندہ سمت ریاست کی متنازع حیثیت کی بحالی کے بیانیے سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ یہی واحد بیانیہ ہے جو مستقبل میں جموں، وادی اور لداخ کی طرف سفر کر سکتا ہے ۔

اجلاس میں 13 اگست 1948 کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے دستخط شدہ اس معاہدے کے تحت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مشتمل لوکل اتھارٹی قائم کرنا یہاں کے عوام کا جمہوری اور قانونی حق ہے۔ اس سے نہ صرف حق حکمرانی کا سوال حل ہو جاتا ہے بلکہ دونوں اکائیوں کی جڑت بھی قائم ہو جاتی ہے، اس کیساتھ ساتھ یہی واحد بیانیہ ہے جو مستقبل میں جموں، وادی اور لداخ کی طرف سفر کر سکتا ہے ۔

شرکاء نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف حق حکمرانی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے بلکہ دونوں خطوں کی وحدت بھی بحال ہو سکتی ہے، اور یہی بیانیہ مستقبل میں جموں، وادی اور لداخ تک سیاسی سفر کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اجلاس میں اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر لاکھوں جموں و کشمیر کے شہری، جمہوریت پسند قوتیں، محنت کش طبقات اور ترقی پسند حلقے اس جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے، جس سے مسئلہ کشمیر دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

آخر میں شرکاء نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سابقہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے مکالمے کا عمل دوبارہ شروع کرے۔

Share this content: