پاکستانی کشمیر: میر افضال سلہریا کی پانچویں برسی پر عوامی حقوق تحریک کے اہداف و لائحہ عمل پر کانفرنس

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں میر افضال سلہریا کی پانچویں برسی کے موقع پر گلوبل ریسرچ فورم کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع "عوامی حقوق تحریک جدوجہد آزادی، ہداف اور لائحہ عمل "تھا۔

مقررین نے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی جو عوامی حقوق تحریک کی بابت ایک خوبصورت مکالمے کا باعث بن گئی۔جس میں تحریک کے متعلق آگے کے لائحہ عمل پر کھل کر بات کی گئی۔بالخصوص اس خطے کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ قرار دیئے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور تقریبا سبھی لوگوں نے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاکہ بیس کیمپ کا بیانیہ ریاست کے بالادست اداروں اور مسلط حکمرانوں کا وہ فریب ہے جس کے باعث یہ خطہ چھائونی میں بدل گیا۔

شرکا نے کہا کہ سرینگر کے نام پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر یہاں کی عوام کو بنیادی سولہیات سے محروم رکھا گیا ۔ نہ انفراسٹرکچر بنایا نہ روزگار کے مواقع پیدا کئے جس کی وجہ سے یہاں کی کل آبادی میں سے چالیس فیصد لوگ معاشی مہاجر بن گئے ،آج بھی ھمارا اٹھارہ سال کا نوجوان شناختی کارڈ سے پہلے پاسپورٹ بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں تعلیم صحت روزگار انفراسٹرکچر اور انصاف کی حالت اتنی دگر گوں ہے کہ یہ خطہ آج بھی پتھر کے دور کا منظر پیش کررہا ہے۔ موجودہ مزاحمتی تحریک کی اٹھان ہی اس خطے کی سیاسی و معاشی محرومیوں کے خلاف ہوئی ہے پہلی بار یہاں کی مزاحمتی قوتوں نے سرینگر کے بجائے عام آدمی کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی جسے بھرپور عوامی حمایت ملی لہذا اسی پر فوکس کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے فرسودہ اور استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد تیز کرنا ہوگی ۔

مکالمے میں ایک نئی بحث بھی سامنے آئی۔ چند احباب نے اس چار ہزار مربع میل کی بین الاقوامی قوانین کے تحت سیاسی حیثیت کو سامنے لاتے ہوئے کہا کہ 24 اکتوبر 1947 کو راولپنڈی میں اعلان کی جانے والی حکومت کو ریاست کی نمائندہ حکومت کے طور پر کہیں بھی تسلیم نہیں کیا گیا باقی تو خیر کون کرتا خود پاکستان نے بھی اسے تسلیم نہیں کیا جبکہ اقوام متحدہ نے تو واضح طور پر سری نگر حکومت کو جموں کشمیر کی حکومت اور آزاد کشمیر کو ایک لوکل اتھارٹی کے طور پر وضاحت کی ہے ۔ایسے میں اس وقت کا جینون بیانیہ یہ بنتا ہے کہ یہاں کے عوام اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی نگرانی میں یہاں ایک بااختیار عوامی اسمبلی ( لوکل اتھارٹی ) کے قیام کے لیے جدوجہد کریں جو ناصرف یہاں کے لوگوں کے سیاسی و معاشی مسائل حل کر سکے بلکہ پون صدی سے زائد التواء میں پڑے جموں کشمیر کے تنازعہ کے حل کی طرف بھی پیش رفت ہوسکے گویا ہماری جدوجہد اس وقت متنازعہ حیثیت کی بحالی کی بنتی ھے ناکہ بیس کیمپ کے نام پر پھر سے دائرے کے سفر کی۔

مقررین نے کہا کہ پہلے ہی بیس کیمپ کے نام پر مظفرآباد میں حکمرانی کے نام پر بیٹھے چند خاندانوں نے اپنی نسلوں کو ریاستی وسائل سے پالا ھے۔۔ جبکہ عوام کی حالت زار 47 سے بھی بدتر ھے۔۔ لہذا سنجیدگی اور شعور کا تقاضا ھے کہ درست سمت کی جانب سفر شروع کیا جائے۔

مقررین نے افضال سلہریا کی ریاست کی وحدت کی بحالی، آزادی اور استحصال سے پاک خوشحال سماج کے قیام کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عہد کیا کہ عوامی حقوق کی بازیابی ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور ایک آزاد باوقار جموں کشمیر کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور آزادی نہ صرف جموں کشمیر کے عوام کے دکھوں کا مداوا ھے بلکہ ہندوستان، پاکستان کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی معاشی آزادی اور خوشحال مستقبل کی ضمانت بھی ھے۔

جن مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں گلوبل پارٹی کے زونل صدر یاسین انجم، سروراجیہ انقلابی پارٹی کے صدر سجاد افضل، نیشنل عوامی پارٹی کے نائب صدر داود اعوان ایڈووکیٹ، جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے ترجمان کامریڈ الیاس کشمیری عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر مجتبی بانڈے، عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما عثمان کاشر، این ایس ایف کے مرکزی رہنما کامریڈ راشد شیخ، جے کے ایل ایف نظریاتی کے رہنما صداقت مغل ،کامریڈ احسان تصدق، ساجد امین، راجہ سرفراز، میر وقار سلہریا سمیت صحافی برادری سے آزاد کشمیر کی صحافت کے بڑے نام ذوالفقار بٹ عبدالحکیم اور نسیم مغل اشتیاق میر سمیت دیگر احباب نے اپنے اپنے انداز سے میر افضال سلہریا کو خراج عقیدت پیش کیا۔

Share this content: