پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل نہیں ہو رہا،عمران خان کی آنکھ کا علاج ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے،حکومت

پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے اور اِس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر مزید لکھا کہ ’اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔‘

وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا ہے کہ ’عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔‘

انھوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’اِس علاج کی کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔‘

وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہنا ہے کہ ’عمران خان کی بہترین طبی معاونت کے حساب سے حکومت انھیں جہاں بھی لے جانا ہے بھیجا جائے گا۔ کہاں جائیں گے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ ‘

نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے عطا ترڑ کا کہنا تھا کہ ’انھیں جلد لے جایا جائے گا۔ پہلے بھی بروقت پمز لے جایا گیا تھا۔ اور فی الحال بہترین معالج فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ذاتی معالجین میں آنکھوں کے ڈاکٹر نہیں ہیں۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ’جو بھی ہو گا مریض کے بہترین مفاد میں ہوگا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بظاہر دیکھنے سے آنکھ کا مسئلہ دکھائی نہیں دے سکتا۔ اس معاملے میں تو مزید تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا۔ عمران خان نے جیل میں اپنی مصروفیات، مشکلات اور سہولیات سے متعلق بیرسٹر سلمان صفدر کو کیا بتایا اور انھوں نے خود کیا دیکھا، یہ انھوں نے اپنی رپورٹ میں درج کیا ہے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کی کہ گذشتہ تین ماہ سے انھیں نظر میں کمی کی شکایت ہے ’حالانکہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔‘

رپورٹ میں وکیل نے لکھا تھا کہ عمران خان اپنی بینائی کم ہونے اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر واضح طور پر پریشان تھے۔ ’ملاقات کی دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا اور وہ ٹشو سے اسے صاف کرتے رہے۔‘

جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے عظا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو جیل میں پر تعیش ماحول حاصل ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’کسی دوسرے قیدی کو کو ٹریڈ میل نہیں دی جاتی۔ اس لیے انھیں ملنے والی سہولیات پر تعیش کہلائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مزید چیک اپ ہو گا تو معاملات کلیئر ہو جائیں۔‘

حکومت اور تحریکِ انصاف میں برف پگھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر تھا۔ وہ انتظامی معاملات ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی ڈیل یا مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ‘

Share this content: